بدھ، 4 مئی، 2016

      سنہرے دن 

گزارے بچپن کے دن  گاؤں  میں 
کڑی دھوپ اور گھنی چھاؤں میں

وہ مسجد میں ذکر خدا اور رسول 
وہ بھاٹی پرائمری تک پرانا سکول

جو شور ندی سے پانی کا آئے
تو تیر تیر کر ندی میں نہائے

جب بھی کبھی آتا ابّا گھر 
تحائف کے لاتا صندوق بھر

سر شام جب دوہی جائے گائے
تو بے دودھ کی دھاریں پلائے

بلاتی تھی لیکن دی نہ کبھی صدا
دییے جل گئےمحمد اب تو گھر آ