سنہرے دن
گزارے بچپن کے دن گاؤں میں
کڑی دھوپ اور گھنی چھاؤں میں
وہ مسجد میں ذکر خدا اور رسول
وہ بھاٹی پرائمری تک پرانا سکول
جو شور ندی سے پانی کا آئے
تو تیر تیر کر ندی میں نہائے
جب بھی کبھی آتا ابّا گھر
تحائف کے لاتا صندوق بھر
سر شام جب دوہی جائے گائے
تو بے دودھ کی دھاریں پلائے
بلاتی تھی لیکن دی نہ کبھی صدا
دییے جل گئےمحمد اب تو گھر آ
