نوجوان بہت اخلاق اور پیار سے پیش آیا دودھ سوڈا سے تواضع کی وقفے وقفے سے پوچھتا آپ نے مجھے پہچانا پھر سے تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیتا میں شرمندگی سے گڑھا جا رہا تھا دماغ سے زور زبردستی کی مگر کچھ پلے نہ پڑا.آخر بولا بھاه جی ! پانچ برس پردیس رہ کر آیا ہوں آپ کا بھلا ہو آپ نے انٹرویو کیا اور آپ اپنے ہاتھوں سے ہر چھ مہینوں بعد ٹھپہ لگا کے دیتے تھے .رب نے آپ کو بڑی عزت دی ہے لیکن اب خدا نے میرا بازو بھی پکڑ لیا ہے .بتانے لگا جو دودھ بچ جاتا ہے اس کی دہی بنا لیتا ہوں میں نے سوال کیا کتنے پیسے کما لیتے ہو کہنے لگا الله کا بڑا کرم ہے دو ہزار تو دودھ آتے ہی بچ جاتا ہے میں نے تجسس سے پوچھا وہ کیسے ؟ دو ہزار کا تو صرف پانی ڈالتا ہوں بھاہ جی !الله کا بڑا کرم ہے جو دہی بچ جاۓ اس سے مکھن نکال لیتا ہوں اور چھاچھ بھی بک جاتی ہے یہ سب ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے .اے اہلِ کتاب! سچ میں جھوٹ کیوں ملاتے ہو اور سچی بات کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو۔
منگل، 15 ستمبر، 2015
الله کا کرم
نوجوان بہت اخلاق اور پیار سے پیش آیا دودھ سوڈا سے تواضع کی وقفے وقفے سے پوچھتا آپ نے مجھے پہچانا پھر سے تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیتا میں شرمندگی سے گڑھا جا رہا تھا دماغ سے زور زبردستی کی مگر کچھ پلے نہ پڑا.آخر بولا بھاه جی ! پانچ برس پردیس رہ کر آیا ہوں آپ کا بھلا ہو آپ نے انٹرویو کیا اور آپ اپنے ہاتھوں سے ہر چھ مہینوں بعد ٹھپہ لگا کے دیتے تھے .رب نے آپ کو بڑی عزت دی ہے لیکن اب خدا نے میرا بازو بھی پکڑ لیا ہے .بتانے لگا جو دودھ بچ جاتا ہے اس کی دہی بنا لیتا ہوں میں نے سوال کیا کتنے پیسے کما لیتے ہو کہنے لگا الله کا بڑا کرم ہے دو ہزار تو دودھ آتے ہی بچ جاتا ہے میں نے تجسس سے پوچھا وہ کیسے ؟ دو ہزار کا تو صرف پانی ڈالتا ہوں بھاہ جی !الله کا بڑا کرم ہے جو دہی بچ جاۓ اس سے مکھن نکال لیتا ہوں اور چھاچھ بھی بک جاتی ہے یہ سب ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے .اتوار، 13 ستمبر، 2015
بے جی (رحمة الله عليه )
بے جی (رحمة الله عليه)
میرے ذہن میں بے جی کی جو سب سے پہلی تصویر بنتی ہے وہ یوں ہے کہ وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوے ہیں اور میں چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں اور غالبا وہ اس ڈر سے میرا ہاتھ نہیں چھوڑتیں کہ میں بھیڑ میں کہیں کھو نہ جاؤں .
بے جی کی یادیں ایک انبار کی صورت میں میرے سامنے ہیں.کچھ سمجھ نہیں کہ کہاں سے شروع کروں .میں اگر یہ کہوں کہ خاندان بھر میں آج تک میں نے اپنی بے جی سے بڑھ کر نفیس اور خوبصورت خاتون نہیں دیکھی تو غلط نہیں ہو گا .ایسا نہیں کہ وہ پھوہڑ تھیں لیکن کھانے پکانے میں کچھ کاہل تھیں.لیکن جاڑے ، برسات کے دنوں میں جب میں اور خالہ ضد کرتے ،تو مورنڈا اور مٹھریاں بڑے اہتمام سے بناتیں .میری صحت کے بارے میں ان کو خاص فکر رہتی .جاگتے ہی ادھ رڑکا ( تازہ دہی اور شکر کو پھینٹ کر جو لسی بنائی جاتی ہے )اور پھر سارا دن حیلے بہانوں سے دودھ و مکھن لیے میرے پیچھے پھرتیں .جس زمانے میں میں گاؤں رہا ، میرے سکول پہنچتے ہی دودھ کا ایک بڑا گلاس جو طشتری سے ڈھانپا ہوتا لیے آ دھمکتیں .پھر آدھی چھٹی سے پہلے باجرے یا گندم کی تازہ روٹی جس پر ڈھیر سارا مکھن ہوتا دوبارہ لے کر آتیں .چھٹی کے بعد ایک بار پھر دودھ پینا پڑتا .اس دوران میرا ہاتھ پکڑ کر بٹھاۓ رکھتیں .تا کہ میں دودھ ختم کر کے ہی اٹھوں .
جب کبھی پڑھنے لکھنے کا ذکر آتا ،تو بتاتیں کہ بچپن میں صبح جب سیپارہ پڑھنے کا وقت ہوتا تو میں گھر کے کاموں میں خاص دلچسپی لیتی بھاگ دوڑ کر ماں کا ہاتھ بٹاتی کہ وہ یہ سمجھیں کہ زینب کام اچھے کر لیتی ہے لہذا آج مسجد ،مدرسے سے اسے چھٹی کروا لوں .لیکن اس زمانے کے مطابق قرآن کریم اور کچی پکی روٹی پڑھ رکھی تھی .بلکہ میں اپنے تائیں خطیب صاحب سے دو ، چار سیپارے پڑھ چکا تھا .لیکن جب انھوں نے سنا ،تو امی کو بتایا کہ یہ تو غلط پڑھتا ہے .لہٰذا مجھے دوبارہ شروع کروایا گیا .ہجے کر کے الفاظ پڑھ لیتی تھیں ایسے ہی ایک دن میری چھوٹی بہن اور اس سے چھوٹا بھائی جیسا کہ اکثر بہن بھائیوں میں ہوتا ہے کو آپس میں بہت چڑ تھی .سکو ل کا کام کر رہے تھے .بے جی نے ان کی مدد کی .تو چھوٹی بہن سے رہا نہ گیا .اس نے پوچھا بے جی آپ کتنی جماعتیں پڑھی ہیں .بھائی کھلکھلا کر ہنسا اور کہنے لگا .بے جی فوجی کو فوزی اور کپتان کو کفتان کہتی ہیں ہا ہا ہا ہا ہا ہا ......اور پوچھتی ہے آپ کتنی جماعتیں پڑھی ہیں.ابا جی نے جب سنا تو یہ ایک لطیفہ بن گیا .ایسے موقعوں پر دھیمے سے مسکرا دیتیں .ان کی مسکراہٹ میں ایک خاص طرح کا وقار تھا بچوں سے ایک خاص قسم کا انس رکھتیں .ڈانٹنے کی کوشش کرتیں .لیکن ایک طرح سے یقین ہوتا کہ ماریں گی نہیں .بچہ اور چنا (چاند) ان کا طرز تخاطب تھا .عام طور پر نصیحت کرتے ہوۓ بچہ کا لفظ استعمال کرتیں .کوئی پنجابی کا محاورہ یا عارفانہ کلام سے رٹےرٹا ے فکرے بیان کرتیں ،زندہ مثال دی جاتی ،اکثر کہتیں سارے کہتے ہیں شکیل اپنی بے کی بات مانتا ہے اور تم ہو کہ میری بھی نہیں مان رہے اور جب نصیحت پر عمل نہ کیا جاتا تو چنگا چنا (اچھا چاند )کہتیں .یہ اک طرح سے اظہار ناراضگی بھی ہوتا ،جو اک طرح سے بے چین کر دیتا .
بے جی کے والد چودھری محمّد ہاشم اور تایا چودھری فتح علی دونوں جنگ عظیم میں شریک تھے .زخمی ہوۓ اس صلے میں ان کو منٹگمری جس کو اب ساہیوال کہا جاتا تھا ذرعی اراضی ملی .اک لحاظ سے خوش حال گھرانہ تھا .بھائیوں میں مثالی پیار تھا .دونوں بھائیوں کی اولاد ایک ہی گھر میں پیدا ہوئی پلی بڑھی اور جوان ہوئی.بے جی اپنے بڑے بھائی چودھری فرزندعلی اور بہن غلام فاطمہ سے چھوٹی تھیں .اس طرح تایا جی جن کو وڈے (بڑے )جی کہا جاتا کے چار بچے تھے .ان کی بڑی بیٹی آمنہ بی بی جن کا عقد چودھری فرزند علی سے ہوا .بے جی کی ہم عمر یا کچھ بڑی تھیں ایک ہی گھر میں پلی بڑھی تھیں اس وجہ سے ایک خاص طرح کا لگاؤ اور محبت تھی.نند بھابی کے رشتے سے کبھی کبھار چھوٹا موٹا جھگڑا بھی ہو جاتا ہو گا.جب پاکستان کی بات ہوتی تو بتاتیں ، عجب افراتفری اور افواہوں کا دور تھا آمنہ اور میں نوجوان تھیں . ہم نے چھت پر حفظ ما تقدم کے طور پر بہت سارے پتھر اکٹھے کر لئے کہ اگر ہندؤں کا حملہ ہوا تو کام آئیں گے .ایسا تو نہ ہوا البتہ پتھروں کے بوجھ سے چھت گر گئی .اللہ میاں کا خاص طور پر شکر ادا کرتیں اور بتاتیں کہ آزادی سے پہلے پھلوں میں آم سنگترے کیلا اور دو چار سبزیوں کا ہی علم تھا .ساری نعمتیں پاکستان بننے کے بعد ہی حاصل ہوئیں.کبھی کہتیں پاکستان تو اس بچے کی مانند ہے جس کے پیدا ہوتے ہی اس کا بابا (قائد اعظم)فوت ہو گیا ہو.پھر لیاقت علی خان کو بھی پاکستان کے دشمنوں نے شہید کر دیا .لالچی اور بے ایمان لوگوں نے ملک کی یہ حالت کر دی ہے .ٹی وی کے بے جا استعمال کے خلاف تھیں .البتہ جب کھبی ہاکی یا کرکٹ کا بھارت کے ساتھ مقابلہ ہوتا تو عام اجازت تھی .پہلے پہل کرکٹ کے ساتھ ان کا تعلق دعاؤں کی حد تک تھا .بار بار پوچھتیں اور دعا کرتیں یا اللہ میرے بچوں کو فتح دینا .لیکن پھر وہ سمجھنے لگیں ،تو بچے ان کے ٹھیٹھ تبصرے پر بہت محظوظ ہوتے .مثال کے طور پر ایہہ جوڑے الہ بے ایمان تے کھینوں مغر دوڑ ای پیندا اے (یہ جوڑے والا بے ایمان گیند کے پیچھے دوڑ ہی لگا دیتا ہے ).کوئی ڈرامہ یا فلم چل رہی ہوتی تو ڈر رہتا بے جی نہ آ جائیں .کہتیں خاوریں (خبریں ) لگاؤ.ریڈیو پر اگر لگا تار قومی ملی نغمے چلتے تو کہتیں لگتا ہے کوئی مشکل وقت آن پڑا ہے .
ابا جی جو ریٹایرڈمنٹ کے بعد بسلسلہ روزگار یونان مقیم تھے .کچھ عرصۂ وہاں بھی رہیں .ابا جی نے کہا بادشاہو ! اڑوس پڑوس کی خواتین کا آنا جانا ہے .آپ کوشش کر کے یونانی زبان کے کچھ الفاظ سیکھ لیں .خوش آمدید شکریہ اور خدا حافظ جیسے الفاظ تو آپ کو یاد ہونے ہی چاہییں.کہنے لگیں ، ان میں تو شرم ہی نہیں ،نیکریں پہن کر گھومتیں ہیں.انتہائی بے شرمی سے سائیکل چلاتی ہیں ناں ہڑیا! میں نے تو پنج سورہ کی تلاوت کرنا ہوتی ہے .آپ چاہتے ہیں میں ان کی بولی بول کر اپنی زبان پلید کر لوں.بھاپ والے دیگچے کو ہم سارے پریشر ککر کہتے .لیکن بے جی اس کو کا چا رولا کہتی تھیں .ساری زندگی ان کو احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ بھی یونانی لفظ ہے جس کے معانی دیگچے کے ہیں.کبھی ابا جی کہتے یہ جو ایتھنز کو اتھینا کہتی ہو تو ؟ سمجھتیں رہیں عزیز کے ابا مذاق کرتے ہیں کبھی دھیان ہی نہیں دیا .کبھی سوچتا ہوں .جتنا ان کو علم تھا اس پر پکا ایمان پورا یقین و اطمینان .گجرات کے نواح میں حافظ محمّد حیات نامی بزرگ کا مغلوں کے دور سے شاندار مزار اور وسیع زرعی اراضی (اسی زمین پر بعد میں گجرات یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا )ہے .ان بزرگوں سے ابّا جی اور ان کے اجداد کو خاص عقیدت تھی .بچپن میں میں بھی کئی بار وہاں گیا .بہت پیار محبت ملتی بڑی رونقیں ہوتیں . جب کبھی دعا کرنا مقصود ہوتی تو اللہ اور اس کے رسول پاک کے بعد بابا جی حافظ حیات کا حوالہ ضرور دیتیں .
ساتھ والے گاؤں میں گھنے درختوں کا ایک جھنڈ پیر جھاڑ کے نام سے ہے.اس کے بارے میں مشہور ہے .کہ وہاں سے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ،اور جو ایسا کرے اسے نقصان پہنچتا ہے .فورا کسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے .اس خوف کی وجہ سے کوئی اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا .درخت نہ کاٹنے کی وجہ سے ایک چھوٹا سا جنگل بن گیا ہے.علاقے کے عامل وہاں چلہ وغیرہ بھی کاٹتے ہیں .پورے علاقے میں پھلاہی کے کچھ درخت وہاں ہی رہ گئے تھے.ایک دن میرے ہاتھ میں پھلاہی کی مسواک دیکھ کر جو میں نے دوسرے گاؤں سے منگوا رکھی تھی.پوچھا یہ کہاں سے لی؟مجھے شر ا رت سوجھی ،میں نے کہا پیر جھاڑ سے!وہ پریشان ہو گئیں.تو میں نے مزید کہا اگر آپ کہیں تو گھر میں استعمال کے لئے ایندھن کے طور پر لکڑیاں بھی لا سکتا ہوں .سن کر پریشان ہو گئیں .انجانا پیر جو اپنے درخت کاٹنے پر جھاڑ کرتا ہے سے بولیں!یہ بے وقوف انجان بچہ ہے اسے معاف کر دیں.میں سمجھ لوں گی.ان کی تکلیف اور پریشانی دیکھ کر مجھے پچھتاوا ہوا حقیقت بتا کر معافی تو مانگ لی،مگر پھر بھی چونکہ بے جی کا بچہ سیدھا سادہ اور بھولا بھالا تھا لہٰذا میرے کچھ اونچے پائنچے والے دوستوں سے جو ان کے خیال میں مجھے بگاڑ رہے تھے سے میل جول پر ہلکی پابندی لگا دی گئی.
جب اذان کی آواز کانوں میں پڑتی تو بے اختیار صدقے یا رسول اللہ کہتیں.اور لفظ محمّد آنے پر قرة العين لك يا رسول الله کہ کر انگلیوں کی پوریں چومتیں اور آنکھوں کو لگاتیں .ہمارے گاؤں میں دو مساجد تھیں سال ١٩٨٧ میں کوئی ایسی لہر اٹھی ،مساجد دو فرقوں میں تقسیم کیا ہوئیں کہ پورا گاؤں سنیوں اور وہابیوں میں بٹ گیا .بے جی کو جب پتہ چلا کہ جھگڑا اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے اور نہ پڑھنے کا ہے .تو اس گروہ کے خلاف ہو گئیں .جو اذان سے پہلے درود شریف نہیں پڑھتا تھا. پہلے پہل ان کو اعتراض فقط یہ تھا کہ وہابی چونکہ اذان دینے سے پہلے درود شریف نہیں پڑھتے لہٰذا تراہ (ہکا بکا رہ جانا،چونک جانا یا ڈر جانا )نکل جاتا ہے.پھروہ دلیل دینے لگیں ! بغیر وسیلے کے تو چھت پر نہیں چڑھا جا سکتا بھلا بغیر رسول الله اور قرآن کی سیڑھی کے الله تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟
کبھی ہمارے ہاں آتیں ،تو کالے دروازوں والے اتنے سارے گھر دیکھ کر ان کو بھوہن (چکر ) چڑھ جاتے .اور اپنے اودل لطیف (عبداللطیف )کا گھر ڈھونڈنے میں بہت مشکل ہوتی .آخر ایک دروازہ جس پر چاک سے کچھ زیادہ ہی مصوری ہوئی تھی،انہوں نے پہچان لیا کہ ایسے فوجی تو میرا شکیل بناتا ہے.اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بے جی کی سہولت کے لئے مجھے آئندہ کے لئے باہر کے دروازوں پر اوٹ پٹانگ مصوری کی چھوٹ مل گئی.
(محمّد شکیل چودھری )
فیئر اینڈ لولی
فیئر اینڈ لولی
میرا ساتھی دوست ان دنوں نہانے سے پرہیز کر رہا
ہے
کیونکہ اس مہینے وہ چھٹیوں میں پاکستان جانے والا ہے اور اگر اس کا پکا رنگ نکل آیا ، جو اس نے فیئر اینڈ لولی کے کئی لیپ کرنے کے بعد بڑی مشکل سے چھپایا ہے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا .
میری بے جی( رحمت الله علیہ )کہا کرتیں میرا بچہ کوئی کالا ہے یہ تو کنک ونه (گندمی ) ہے اور مرد ایسے ہی خوبصورت ہوتے ہیں.یا ماموں جی ( رحمت الله علیہ ) کہا کرتے ! کالا شاہ کالا میرا کالا اے محبوب تے گوریاں نوں پیچھاں کرو .تو میں کہتا اچھا تو یہ شاہوں (بادشاہوں ) کا رنگ ہوا . یا میں جواب دیتا ! اے حبش ملک دا حبشی ماما شاہ کالا توں کیوں کرنا ایں پیار اے کالا شاہ کالا . مختصر یہ کہ مجھے شروع سے تسلی رہی کہ میں پکے رنگ کا مالک ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ ہم میں سے اکثر لوگ کچے کو پکا کرنے کی بجاۓ ، پکے کو کچا کرنے پر کیوں تلے ہیں ؟
میرا ساتھی دوست ان دنوں نہانے سے پرہیز کر رہا ہے
میری بے جی( رحمت الله علیہ )کہا کرتیں میرا بچہ کوئی کالا ہے یہ تو کنک ونه (گندمی ) ہے اور مرد ایسے ہی خوبصورت ہوتے ہیں.یا ماموں جی ( رحمت الله علیہ ) کہا کرتے ! کالا شاہ کالا میرا کالا اے محبوب تے گوریاں نوں پیچھاں کرو .تو میں کہتا اچھا تو یہ شاہوں (بادشاہوں ) کا رنگ ہوا . یا میں جواب دیتا ! اے حبش ملک دا حبشی ماما شاہ کالا توں کیوں کرنا ایں پیار اے کالا شاہ کالا . مختصر یہ کہ مجھے شروع سے تسلی رہی کہ میں پکے رنگ کا مالک ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ ہم میں سے اکثر لوگ کچے کو پکا کرنے کی بجاۓ ، پکے کو کچا کرنے پر کیوں تلے ہیں ؟
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
