ہفتہ، 29 ستمبر، 2018

                                              میرا ووٹ
      ایک زمانے تک محمد علی  جناح  سمیت میں سب کو ایک جیسا ہی سمجھتا رہا جھوٹے مکاردغا باز  فریبی چور اور لٹیرے .ہاں میں علامہ محمد اقبال اور محمد علی جوہر سے متاثر تھا ابّا جی کی رہنمائی میسر ہوئی تو محمد علی جناح اپنے زمانے کے ولی لگے ،الله میاں ان کے درجات بلند فرماۓ 
     شاہ فیصل ذوالفقار علی  بھٹو یاسر عرفات کرنل قذافی  جمال عبدل ناصر وغیرہ اسلامی  سربراہی کانفرنس کے دوران اس کے بعد ضیاء الحق محمد خان جونیجو سردار اکبر بگٹی اور قاضی حسین احمد کو میں نے قریب سے دیکھا .آخری دو شخصیات  سے میری بات بھی ہوئی .
     میری بے جی فرمایا کرتیں کہ پاکستان کا  سب سے اچھا دور لیاقت علی  خان کا تھا اس کے بعد ایوب خان کا ، مجھے لگتا ہے ضیاء الحق کے بعد نواز شریف کی حکومتیں انسان دوست رہی ہیں .بلاشبہ آخری دور اتنا اچھا نہیں تھا .
     آج میں محسوس کرتا ہوں بحثیت ادارہ پاک فوج اور بحثیت سیاسی تنظیم جماعت اسلامی سے بڑھ کر کوئی نہیں ،آپ نتھو ہو یا خیرا  اپنی محنت دیانت داری اور قابلیت کی بنا پر اعلی  عہدوں تک پہنچ سکتے ہیں صاف شفاف اور منظم، قران اور حقیقی پاکستان کے قریب تر اور اگر سراج الحق جیسا  دیانت دار درویش صفت راہنما کسی اور پارٹی  کے پاس ہو تو بتاؤ میرا ووٹ اس کے لیے ہے.

                              چاۓ والا لا لا لا.......

     سکول کے زمانے میں . میں اور میرے  ابّا جی رحمت اللہ علیہ روم میٹ  room mate   تھے عشاء کے بعد بی بی سی سنتے! ایک شطرنج کی بازی لگتی اور ہارنے والا کھلاڑی چاۓ  بناتا ابّا جی اکثر مجھے طیش  دلاتے برخوردار!
 ہارنا تو .
تو نے ہی ہے 
لہذا بنا لے چاہ .
     چاہ  اور نوک جوک کا سواد  بھی ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابّا جی کی قربت مجھے مخمور  رکھتی .
     چاۓ والا لا لا لا..... یہ ابو جی رحمت اللہ علیہ کا کبھی ظہر  اور کبھی عصر کی نماز کے بعد کا ڈائیلاگ  dialogue ہوتا اور اکثر مذاق سے کہتے چاۓ  کے بغیر تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا اس طرح ماموں جی رحمت اللہ علیہ بھی چاۓ  کا نشہ کرتے تھے اب سچ تو یہ ہے کہ  ان کے بعد ان کے بغیر وہ چاہ نہیں رہی   جو زندگی دیتی تھی 

اتوار، 9 ستمبر، 2018

                                  ڈھیل
     باپو احمد علی کا شمار گاؤں کے معمر اور  انتہائی دانا  لوگوں میں ہوتا ہے اس زمانے میں جلد شادی اور بچے ہو جاتے تھے باپواحما  جو میرا یار ہے اس کا بڑا  بیٹا گامو  یہی کوئی  ستر  اسی  برس کا ہو گا اس کے بچوں کے بچے بھی بیاہے  گئے تھے وہی کھیت کھلیان وہی فصلیں   وہی رہٹ  وہی ڈھور ڈنگر اور ان کے درمیان ڈرا ڈرا سہما  سا بیچارہ غلام احمد مجھے اس پر ترس آتا وہ پیدائشی غلام تھا سکھ نام کی چیز اس کی زندگی میں نہ تھی پنجابی اردو پشتو اور فارسی کی کوئی ایسی گالی نہ ہو گی جو باپ نے بیٹے پر نہ آزمائی ہو بلکہ بے شمار  نت نئی کے علاوہ  کئی ایک کا موجد وہ خود تھا مجھے اس کے اس رویے پر شرمندگی ہوتی میں اس سے اکثر کہتا یہ ساری گالیاں دراصل تم  اپنے آپ کو دے رہے ہو آخر اس بیچارے کو اپنی زندگی کیوں نہیں جینے دیتے
     باپو نے  حقے کا لمبا کش لیا  لمبی گالی بک کر  ایک آنکھ بند کی اور بولا اگر اس کو ڈھیل دی تو اس کے پر پرزے نکل آ ئیں گے اور یہ اپنی مرضی  والا ہو جائے گا.