اتوار، 5 اپریل، 2020

     لباس
     
     سونے جاگنے کھانے پینے نہانے دھونے کام کاج ، کبھی کبھار یوں لگتا ہے جیسے زندگی مختلف اوقات میں قید  ہو کر رہ گئی ہو.
     کبھی مہینے اور کبھی مہینوں بعد میں اس بندی خانے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں اس دن  کسی کام کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا جو جی میں آئے وہ کرتا ہوں  چائے  کے وقت لسی اور لسی کے وقت دودھ ، جب کف کھلے اور قمیض کا صرف ایک اوپر کا بٹن بند ہو جب بنا بنیان کرتا پہنوں داڑھی نہ بناؤں تہبند میں مسجد اور چپل میں مارکیٹ جاؤں تو میرے گھر میں سارے جانتے ہیں یہ ٹینشن فری ڈے ہے . 
 کرونا کی بندش کے دوران میں نے پہلے دس دنوں کو ایسے 
  ہی گزارا اور زندگی کی پہلی سلفیز لیں.   
     اب سمجھ آ رہی ہے حلیے تو لباس کی طرح ہوتے ہیں اندر سے انسان وہی پرانے والا ہی ہوتا ہے.اپنے باہر نہیں اندر کو بدلنے کی ضرورت ہے.اپنے الله کو بھی اسی اصل سے مطلب ہے.بہت پیار .

جمعہ، 3 اپریل، 2020

      ما ں مغلانی

     ما ں مغلانی کاصحیح  سن پیدائش تو معلوم نہیں البتہ انیس سو  سے پہلے  اٹھارہ سو  کے آخر کسی سال آمد ہوئی  .ان کے والدین کا بنیادی تعلق کوٹلہ ارب علی خان کے نواحی گاؤں سدوال سے تھا لیکن ان کا بچپن لاہور میں گزرا جہاں ان کے والد کوتوال  تھے شاید لاہور جیسے شہر میں پرورش پانے کی  وجہ سے آٹھ درجے تک پڑھ گئیں . جس  زمانے میں یہ بیاہ کر ہمارے گاؤں (بھاٹی ) آئیں تو مرد و زن میں ایک یہی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں.
     خوش قسمتی سے ان کو میاں  بھی درویش منش نصیب ہوۓ . چودھری غلام مصطفیٰ  ویسے تو لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے لیکن جنگ عظیم اول میں شرکت کی وجہ سے ان کو مختلف ممالک اور معاشروں  کو دیکھنے کا موقع ملا .مصر سمیت افریقی ممالک کے علاوہ شام اردن اور خاص طور پر عراق کی زیارات انہوں نے اس دوران ہی کیں .بغداد شریف سے خصوصی عقیدت بھی شاید اسی زمانے میں پیدا ہوئی . بلا  کا توکل ان کا خاصہ تھا .
     ماں مغلانی نے بچوں بڑوں کو ناظرہ کی تعلیم دینی شروع کی ، گویا گاؤں کا پہلا غیر رسمی  مدرسہ قائم ہوا جس میں قران کریم کے علاوہ کچی اور پکی روٹی ہجے کر کے پڑھ لینا ایک اضافی خوبی سمجھی جاتی .اس زمانے میں جو بچیاں یہ پہاڑ سر کر لیتیں ،ان کی مائیں اس قابلیت کا بڑے فخر سے خاص ذکر کرتیں .اس کے علاوہ تعلیم  تربیت کی غرض سے  قصص الانبیا اور قصص المحسنین کا خاص طور پر بیان  ہوتا . پاکستان بننے کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا لیکن ان کے بعد ان کے قابل قدر شاگردوں میں سے باپوملا  ( نواب علی)، لا لہ جی ( محمد صادق ) ، ماں ہاشو(ہاشم بی بی) بی بی جی(بشیر بی بی  ) نے  تا دم رخصت یہ سلسلہ جاری رکھا. الله کریم اپنےکرم اور قران کریم کی برکتوں سے ان پر اپنی خاص مہربانیاں فرماۓ.امین.

جمعرات، 2 اپریل، 2020

     سپائسی فوڈ      

     ہمارے  گاؤں  بارش برسنے سے پہلے کاشمیر سے ٹھنڈی ہوا آتی . 
بلبلوں والی یا پھر ہلکی پھوار ہو تواسے جھڑی کہا جاتا اس کا مطلب ہے  یہ کافی دن برسے گی.
     ہمارے ہاں رزق ضایع  کرنا کفران نعمت  ہے  . لہذا ابا جی اپنی بچی ہوئی روٹی کو اپنے بیلوں میں برابر تقسیم کر کے ان کی تھوتھنی پر ہاتھ پھیر دیتے .
     بےجی بچی ہوئی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے گڑ میں بنا  ڈالتیں  .
     باقی بچا کھچا  ونڈے والی چٹوری یا کنستر  سے ہوتے ہوۓ  گاۓ بھینس  کے پیٹ میں چلا جاتا .
     ان  کرونا بندش  کے دنوں  ضرورت سے زیادہ ٹھنڈ اور لمبی جھڑی  میں  دال روٹی  کچھ زیادہ بن گئی ہے. دونوں ہاتھوں اور چمچ سے بھی کھائی .اب  نہ  ابا کے بیل  ہیں نہ  ونڈے کا کنستر  البتہ بے جی کا  فارمولہ  ہے تو لہسن ادرک بیسن مرچ مصالے اور یہ  کرماں والی دال .
     سوچ رکھا ہے اگر پھر بھی کچھ بچ گیا تو وہ  سامنے  پیڑ پر  ایک گھر  کافی دنوں سے بن رہا ہے    سپائسی فوڈ   اس کے نیچے   رکھ آؤں گا .