ما ں مغلانی
ما ں مغلانی کاصحیح سن پیدائش تو معلوم نہیں البتہ انیس سو سے پہلے اٹھارہ سو کے آخر کسی سال آمد ہوئی .ان کے والدین کا بنیادی تعلق کوٹلہ ارب علی خان کے نواحی گاؤں سدوال سے تھا لیکن ان کا بچپن لاہور میں گزرا جہاں ان کے والد کوتوال تھے شاید لاہور جیسے شہر میں پرورش پانے کی وجہ سے آٹھ درجے تک پڑھ گئیں . جس زمانے میں یہ بیاہ کر ہمارے گاؤں (بھاٹی ) آئیں تو مرد و زن میں ایک یہی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں.
خوش قسمتی سے ان کو میاں بھی درویش منش نصیب ہوۓ . چودھری غلام مصطفیٰ ویسے تو لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے لیکن جنگ عظیم اول میں شرکت کی وجہ سے ان کو مختلف ممالک اور معاشروں کو دیکھنے کا موقع ملا .مصر سمیت افریقی ممالک کے علاوہ شام اردن اور خاص طور پر عراق کی زیارات انہوں نے اس دوران ہی کیں .بغداد شریف سے خصوصی عقیدت بھی شاید اسی زمانے میں پیدا ہوئی . بلا کا توکل ان کا خاصہ تھا .
ماں مغلانی نے بچوں بڑوں کو ناظرہ کی تعلیم دینی شروع کی ، گویا گاؤں کا پہلا غیر رسمی مدرسہ قائم ہوا جس میں قران کریم کے علاوہ کچی اور پکی روٹی ہجے کر کے پڑھ لینا ایک اضافی خوبی سمجھی جاتی .اس زمانے میں جو بچیاں یہ پہاڑ سر کر لیتیں ،ان کی مائیں اس قابلیت کا بڑے فخر سے خاص ذکر کرتیں .اس کے علاوہ تعلیم تربیت کی غرض سے قصص الانبیا اور قصص المحسنین کا خاص طور پر بیان ہوتا . پاکستان بننے کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا لیکن ان کے بعد ان کے قابل قدر شاگردوں میں سے باپوملا ( نواب علی)، لا لہ جی ( محمد صادق ) ، ماں ہاشو(ہاشم بی بی) بی بی جی(بشیر بی بی ) نے تا دم رخصت یہ سلسلہ جاری رکھا. الله کریم اپنےکرم اور قران کریم کی برکتوں سے ان پر اپنی خاص مہربانیاں فرماۓ.امین.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں