بدھ، 25 نومبر، 2015

حور و کھجور

     کچے  گھروں کے درمیان مسجد کا پکا ہونا بہت عام  اور محبت کی علامت ہے .لیکن وہ نہ صرف  رنگ برنگے گلدستوں  سنہری تاروں جھنڈوں  جھنڈیوں اور جلتی بجتی ڈسکو بتیوں سے آراستہ تھی بلکہ جا بجا  مصوری بھی ہوئی تھی .مولانا کے عین  سامنے محراب کے اندر کھجور بنا دی گئی تھی .
     حضرت نے آیت پڑھی جس میں جنت کی کھجوروں کے باغات کا ذکر تھا اور بتایا اس طریقہ سے جب جنت کا منظر ذہن میں ہو، تو عبادت میں بھی مزہ آئے گا .
     میں نے ان کو یاد دلائی !قران کریم میں تو حوروں کا بھی ذکر ہے اگر دو چار حوریں بھی بنا دیتے تو بھی دل لگا رہتا .
     الله رحمان الرحیم آپ کا ،ان کا اور میرا بھلا کرے.امین 

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

یاد

      نہ جانے  کیوں کچی  پکی  پہلی  دوسری  پاس کر کے  جب تیسری میں پہنچتا  تو دوسری  اور پہلی کا سبق بھول چکا ہوتا .لہٰذا  اسے کئی  بار تیسری جماعت سے  واپس پہلی جماعت میں بیٹھایا  گیا اور کئی سال اس کا تعلیمی سفر اسی  دائرے تک محدود رہا.
     قدرتی طور پر بارش آندھی  اور طوفان سے وہ بہت ڈرتا تھا .ہمجولی اگر مذاق میں کہہ دیتے  لگتا ہے آندھی آ رہی ہے اور بارش بھی برسے گی .تو وہ ڈر  کر سرپٹ دوڑ  لگا دیتا .اپنے گھر کی پچھلی کوٹھری اس کی منزل ہوتی.
     ہاں جوانی میں جب وہ مویشیوں  کے لیے  چارہ  چوری کرنے جاتا .تو  بڑی  تیاری سے جیسے بینک ڈکیتی  کا قصد ہو.
     آج ایک بڑے اشتہار پر اس کی بڑی  تصویر کے نیچے لکھا ہے .  تعلیم یافتہ ،  جرأت  مند  اور دیانت  دار قیادت ..... آپ کے ووٹ کا صحیح  حقدار . انتخابی  نشان .........یاد  رکھیں .

جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

ایم اے انگلش

                           ایم اے انگلش
     فارم میں ہے کیا ؟نام کا پہلا  اور دوسرا حصہ ، والدین کے نام  ،تاریخ اور جاۓ پیدائش .ملک .رہائشی  پتہ  فون تاریخ ، ٹیلیفون نمبر اور آخر میں اپنے دستخط .بس !ایک پانچ پاس پورے پانچ یورو میں یہ پر کرتا ہے .کبھی چھوٹی  اور کبھی موٹی غلطی بھی ہو جاتی ہے.پورے پانچ برس بعد چونکہ کچھ بھی تو میل نہیں کھاتا .لہٰذا پورے پانچ سو وکیل کو دے  کر کہتا ہے آئی ایم   ایم اے انگلش .
   میں ذرا بھی تو حیران نہیں ہوا کیوں کہ  میرے بہت سارے فیس بکئے  یار بھی تو آکسفورڈ  اور پنجاب  یونیورسٹی سے فارغ التحصیل  ہیں.

یونیورسٹی

                              یونیورسٹی
      نکلے ہوۓ  پیٹ کے ساتھ پست قامت  لیکن اطوار سے  وہ  مجھے بنگال  کا شیر لگا اس کی پھرتیاں دیکھ کر مجھے مدھیہ پردیش  کا موگلی اور ایجر رائس  کا  ٹارزن  بھی یاد آئے .جس تواتر سے وہ اپنی  ناک میں انگلیاں پھیر رہا تھا ،مجھے لگا بالکل اس طریقے سے اس نے کبھی اپنے نتھنے کھلے کیے  ہوں گے .
     بڑے انہماک سے ایک تعارفی فارم  پر کر رہا تھا ایک مقام پر اٹک گیا اور کچھ دیر پہلے ان دو میں سے ایک انگلی جو نتھنوں میں پھیر رہا تھا اس نے اپنے دانتوں کے نیچے دبا لی.تعلیمی قابلیت کے خانے  میں اس  نے لکھا تھا ایس  کے او  ایل (سکول ) اور کے اے ایل اے جے (کالج ).میں  اسے ہجوں کی درستگی کرواتے  ہوۓ سوچ رہا تھا اب یہ میرا شکریہ ادا کرے گا لیکن وہ  کہنے لگا بھیا ! یونیورسٹی  کے  سپیلنگ کیا ہوۓ ؟

منگل، 13 اکتوبر، 2015

وسیلہ

     
     داڑھی والے صاحب زمین پر آلتی پالتی  مارے بیٹھے تھے میرا وہ جذبہ  جو ایسے صاحبان یا پھر خواتین کو دیکھ کر جاگتا ہے کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے سلام کے بعد ان کو ساتھ لیا کرسی پر بیٹھایا پانی پلایا اور احوال پوچھا تا کہ الله کریم کے ہاں کچھ نمبر بناۓ جا سکیں .اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواست کے مطابق جس میں نام کا پہلا حصہ علامہ  درج تھا.ذرا جو فرصت  ملی  حضرت نے میرا نام اور حدود اربعہ جاننے کے بعد  رابطہ نمبر مانگا.جو اتنا ذاتی بھی نہیں ہے لیکن اس وقت مناسب نہ تھا.حضرت کہنے لگے ایک بات پوچھنی تھی کہ ................کارڈ بنوانے کا طریقہ کیا ہے .میں نے مسکرا کر  ان کو تسلی دی اور بتایا آپ کا کارڈ بن گیا ہے اور طریقہ بھی آپ جانتے ہیں .حضرت علامہ  خاص انداز سے گویا ہوۓ..میرا  خیال تھا ....میرے کچھ دوست ..........کچھ  لے....... دے...... کے .میں مسکرایا  تو دوبارہ ارشاد فرمایا  آپ بھی کھائیں اور ہمیں بھی کھلائیں.میں نے کہا ....ملا!        رزق کی اتنی فکر نہ کیا کرو جواب میں فرمانے لگے کوئی وسیلہ  بھی تو بنتا ہے صاحب ................

قوم ملک وملت

     

     مجھے لگتا ہے یہ جو کریم نے اپنےکرم سے  قوم ملک وملت بناۓ  ہیں سب صرف میریسہولت کےلیے ہے. جب تو میں کہتا ہوں پیارا پاکستان .بھارت .فلپائن سری لنکا ،مالدیپ انڈونیشا اس طرف ..مشرقی پاکستان معافی چاہتا ہوں بنگال  بنگلہ دیش اور میانمار اس طرف ..All African side in front of me...كل  لل عرب هنا... ایرانی و افغانی منتظرباشد ...پھر  پشتون بھائیوں سے کہنا پڑتا ہے ؛ التا  آرام  سارا ادریکا ؛ واہ سبحان الله .
     وہ کہتا ہے سارے سمجھ جاتے ہیں ایک بار دو بار لیکن ایک یہ جو تیرے ہیں ... سو بار بھی نہیں.میں سوچتا ہوں کمہارن  آخر کب تک اپنے برتنوں کو سراہے .....تنگ  آ کر اس سے کہتا ہوں گله دیکھا ہے نا ؟ یہ گلہ ہے بیچارہ .......... گلہ بان   کے بغیر.  وہ مطمئن ہو کر ہنس دیتا ہے جب کہ میرا      جی     روتا  ہے. 

پیر، 12 اکتوبر، 2015

حیرانگی

     کترینا ایک پڑھی لکھی خاتون ہے وہ مختلف مذاھب اور معاشروں کے بارے میں بے پناہ معلومات رکھتی ہے  اسی لئے تو اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے .میری حثیت  توفقط  ایک رابطہ کار کی ہے جو فریقین  کے الفاظ کو ان کی  مادری زبانوں میں بدل کر پیش کرتا ہے  .
    سوال ! تم شادی شدہ ہو ؟
    جواب ! نہیں .
    سوال !تمہارے کتنے بچے ہیں ؟
    میں درخواست گذار  سے پوچھے  بغیر جواب دیتا ہوں ،کوئی نہیں .
    اعتراض کیا جاتا ہے کہ میں نے پوچھے بغیر جواب دیا ہے .
    میں شرمندگی سمیٹتے  ہوئےمسکرا کر سوال کرتا ہوں 
    جواب میں نوجوان شرمندہ ہو کر مسکرا دیتا ہے 
    دوبارہ اعتراض کیا جاتا ہے     چرا لبخند؟
    ناچار مجھے بتانا پڑتا ہے    we have no bastard 
    سارے ممبران کھل کر ہنستے ہیں جب کہ کترینا حیرت زدہ ہے. 

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

ریوڑ

     میں بالکل  اس طرح جیسے محبوب سے بات کرتا ہوں  السلام علیکم میرے بچو ، بھائیو  اور بزرگو !احوال پوچھتا ہوں اور تسلی دیتا ہوں.سب راضی  خوش نظر آتے ہیں فورا ایک خاندان ایک گھر کا سا ماحول بن جاتا ہے.پھر صلاح دیتا ہوں اگر اپنی سہولت کے لیے ایک قطار بنا لیں براہ  کرم  درمیان سے اپنے آنے جانے کے لیے راستہ بھی رہنیں دیں .بار بار دہراتا ہوں ایک ایک سے استدعا کرتا ہوں.لیکن کوئی بھی تو ٹس سے مس  نہیں ہو رہا .آخرمیرے ساتھی کو شک گزرا تو اس نے سوال کیا یہ تمہاری زبان سمجھ تو رہے ہیں؟پھر مجھے اپنی بکریاں بیل بھینسیں  گدھا اور گھوڑا  یاد آیا .جو مجھے سنتے تھے اور ٹک  ٹک  دیدے پھاڑ کر دیکھتے تھے .حیوان ، بے زبان   بیچارے .
     آخر ایک چرواہے کا بچہ جس نے کمر کے ساتھ ڈنڈا  لٹکا رکھا ہے کے گلا  پھاڑ  کر ایک مرتبہ   "  ہے "   کہنے کی دیر تھی .کہ ساری  کی ساری  بھیڑ بکریاں گائے بھینسیں  گدھے اور گھوڑے ہانپتے کانپتے  گرتے پڑتے  اپنے اپنے تھانوں پر جا کھڑے  ہوتے ہیں.
     میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں کہ میں بھی اسی ریوڑ میں سے ایک ہوں .

منگل، 15 ستمبر، 2015

الله کا کرم

     نوجوان بہت اخلاق  اور پیار سے پیش آیا دودھ سوڈا سے تواضع کی وقفے وقفے  سے پوچھتا آپ نے مجھے پہچانا پھر سے    تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیتا میں شرمندگی سے گڑھا  جا رہا تھا دماغ سے زور زبردستی  کی مگر کچھ پلے نہ پڑا.آخر بولا  بھاه جی ! پانچ  برس  پردیس رہ کر آیا  ہوں آپ کا بھلا ہو آپ نے انٹرویو کیا اور آپ اپنے ہاتھوں سے ہر چھ مہینوں بعد ٹھپہ لگا کے دیتے تھے .رب نے آپ کو بڑی عزت دی ہے لیکن اب خدا نے میرا بازو بھی پکڑ لیا ہے .بتانے لگا جو دودھ  بچ جاتا ہے اس کی دہی  بنا لیتا ہوں میں  نے سوال کیا کتنے پیسے کما لیتے ہو کہنے لگا الله کا بڑا کرم ہے دو ہزار  تو دودھ آتے ہی بچ جاتا ہے میں نے تجسس سے پوچھا وہ کیسے ؟ دو ہزار کا تو صرف  پانی ڈالتا ہوں بھاہ جی !الله کا بڑا کرم ہے جو دہی بچ جاۓ اس سے مکھن نکال لیتا ہوں  اور چھاچھ  بھی بک جاتی ہے یہ سب ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے .

اتوار، 13 ستمبر، 2015

بے جی (رحمة الله عليه )


                بے جی (رحمة الله عليه)
     

     میرے ذہن میں بے جی کی جو سب سے پہلی تصویر بنتی ہے وہ یوں ہے کہ وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوے ہیں اور میں چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں اور غالبا وہ اس ڈر سے میرا ہاتھ نہیں چھوڑتیں کہ میں بھیڑ میں کہیں کھو نہ جاؤں .
     بے جی کی یادیں ایک انبار کی صورت میں میرے سامنے ہیں.کچھ سمجھ نہیں کہ کہاں سے شروع کروں .میں اگر یہ کہوں کہ خاندان بھر میں آج تک میں نے اپنی بے جی سے بڑھ کر نفیس اور خوبصورت خاتون نہیں دیکھی تو غلط نہیں ہو گا .ایسا نہیں کہ وہ پھوہڑ تھیں لیکن کھانے پکانے میں کچھ کاہل تھیں.لیکن جاڑے ، برسات کے دنوں میں جب میں اور خالہ ضد کرتے ،تو مورنڈا اور مٹھریاں بڑے اہتمام سے بناتیں .میری صحت کے بارے  میں ان کو خاص فکر رہتی .جاگتے ہی ادھ رڑکا ( تازہ  دہی اور شکر کو پھینٹ کر جو لسی بنائی جاتی ہے )اور پھر سارا دن حیلے بہانوں سے دودھ و مکھن لیے میرے پیچھے پھرتیں .جس زمانے میں میں گاؤں رہا ، میرے سکول پہنچتے ہی دودھ کا ایک بڑا گلاس جو طشتری سے ڈھانپا ہوتا لیے آ دھمکتیں .پھر آدھی چھٹی سے پہلے باجرے یا گندم کی تازہ روٹی جس پر ڈھیر سارا مکھن ہوتا دوبارہ لے کر آتیں .چھٹی کے بعد ایک بار پھر دودھ پینا پڑتا .اس دوران میرا ہاتھ پکڑ کر بٹھاۓ رکھتیں .تا کہ میں دودھ ختم کر کے ہی اٹھوں .
     جب کبھی پڑھنے لکھنے کا ذکر آتا ،تو بتاتیں کہ بچپن میں صبح جب سیپارہ پڑھنے کا وقت ہوتا تو میں گھر کے کاموں میں خاص دلچسپی لیتی بھاگ دوڑ کر ماں کا ہاتھ بٹاتی کہ وہ یہ سمجھیں کہ زینب کام اچھے کر لیتی ہے لہذا آج مسجد ،مدرسے سے اسے چھٹی  کروا لوں .لیکن اس زمانے کے مطابق قرآن کریم اور کچی پکی روٹی پڑھ رکھی تھی .بلکہ میں اپنے تائیں خطیب صاحب سے دو ، چار سیپارے پڑھ چکا تھا .لیکن جب انھوں نے سنا ،تو امی کو بتایا کہ یہ تو غلط پڑھتا ہے .لہٰذا مجھے دوبارہ شروع کروایا گیا .ہجے کر کے الفاظ پڑھ لیتی تھیں ایسے ہی ایک دن میری چھوٹی بہن اور اس سے چھوٹا بھائی جیسا کہ اکثر بہن بھائیوں میں ہوتا ہے کو آپس میں بہت چڑ تھی .سکو ل کا کام کر رہے تھے .بے جی نے ان کی مدد کی .تو چھوٹی بہن سے رہا نہ گیا .اس نے پوچھا بے جی آپ کتنی جماعتیں پڑھی ہیں .بھائی کھلکھلا کر ہنسا اور کہنے لگا .بے جی فوجی کو فوزی اور کپتان کو کفتان کہتی ہیں ہا ہا ہا ہا ہا ہا ......اور پوچھتی ہے آپ کتنی جماعتیں پڑھی ہیں.ابا جی نے جب سنا تو یہ ایک لطیفہ بن گیا .ایسے موقعوں پر دھیمے سے مسکرا دیتیں .ان کی مسکراہٹ میں ایک خاص طرح کا وقار تھا بچوں سے ایک خاص قسم کا انس رکھتیں .ڈانٹنے کی کوشش کرتیں .لیکن ایک طرح سے یقین ہوتا کہ ماریں گی نہیں .بچہ اور چنا (چاند) ان کا طرز تخاطب تھا .عام طور پر نصیحت کرتے ہوۓ بچہ کا لفظ استعمال کرتیں .کوئی پنجابی کا محاورہ یا عارفانہ کلام سے رٹےرٹا ے فکرے بیان کرتیں ،زندہ مثال دی جاتی ،اکثر کہتیں سارے کہتے ہیں شکیل اپنی بے کی بات مانتا ہے اور تم ہو کہ میری بھی نہیں مان رہے اور جب نصیحت پر عمل نہ کیا جاتا تو چنگا چنا (اچھا چاند )کہتیں .یہ اک طرح سے اظہار ناراضگی بھی ہوتا ،جو اک طرح سے بے چین کر دیتا .
     بے جی کے والد چودھری محمّد ہاشم اور تایا چودھری فتح علی دونوں جنگ عظیم میں شریک تھے .زخمی ہوۓ اس صلے میں ان کو منٹگمری  جس کو اب ساہیوال  کہا جاتا تھا ذرعی اراضی ملی .اک لحاظ سے خوش حال گھرانہ تھا .بھائیوں میں مثالی پیار تھا .دونوں بھائیوں کی اولاد ایک ہی گھر میں پیدا ہوئی پلی بڑھی اور جوان ہوئی.بے جی اپنے بڑے بھائی چودھری فرزندعلی اور بہن غلام فاطمہ سے چھوٹی تھیں .اس طرح تایا جی جن کو وڈے (بڑے )جی کہا جاتا کے چار بچے تھے .ان کی بڑی بیٹی آمنہ بی بی جن کا عقد چودھری فرزند علی سے ہوا .بے جی کی ہم عمر یا کچھ بڑی تھیں ایک ہی گھر میں پلی بڑھی تھیں اس وجہ سے ایک خاص طرح کا لگاؤ اور محبت تھی.نند بھابی کے رشتے سے کبھی کبھار چھوٹا موٹا جھگڑا بھی ہو جاتا ہو گا.جب پاکستان کی بات ہوتی تو بتاتیں ، عجب افراتفری اور افواہوں کا دور تھا آمنہ اور میں نوجوان تھیں . ہم نے چھت پر حفظ ما تقدم کے طور پر بہت سارے پتھر اکٹھے کر لئے کہ اگر ہندؤں کا حملہ ہوا تو کام آئیں گے .ایسا تو نہ ہوا البتہ پتھروں کے بوجھ سے چھت گر گئی .اللہ میاں کا خاص طور پر شکر ادا کرتیں اور بتاتیں کہ آزادی سے پہلے پھلوں میں آم سنگترے کیلا اور دو چار سبزیوں کا ہی علم تھا .ساری نعمتیں پاکستان بننے کے بعد ہی حاصل ہوئیں.کبھی کہتیں پاکستان تو اس بچے کی مانند ہے جس کے پیدا ہوتے ہی اس کا بابا (قائد اعظم)فوت ہو گیا ہو.پھر لیاقت علی خان کو بھی پاکستان کے دشمنوں نے شہید کر دیا .لالچی اور بے ایمان لوگوں نے ملک کی یہ حالت کر دی ہے .ٹی وی کے بے جا استعمال کے خلاف تھیں .البتہ جب کھبی ہاکی یا کرکٹ کا بھارت کے ساتھ مقابلہ ہوتا تو عام اجازت تھی .پہلے پہل کرکٹ کے ساتھ ان کا تعلق دعاؤں کی حد تک تھا .بار بار پوچھتیں اور دعا کرتیں یا اللہ میرے بچوں کو فتح دینا .لیکن پھر وہ سمجھنے لگیں ،تو بچے ان کے ٹھیٹھ تبصرے پر بہت محظوظ ہوتے .مثال کے طور پر ایہہ جوڑے الہ  بے ایمان تے کھینوں مغر دوڑ ای پیندا اے (یہ جوڑے والا بے ایمان گیند کے پیچھے دوڑ ہی لگا دیتا ہے ).کوئی ڈرامہ یا فلم چل رہی ہوتی تو ڈر رہتا بے جی نہ آ جائیں .کہتیں خاوریں (خبریں ) لگاؤ.ریڈیو پر اگر لگا تار قومی ملی نغمے چلتے تو کہتیں لگتا ہے کوئی مشکل وقت آن پڑا ہے .
     ابا جی جو ریٹایرڈمنٹ کے بعد بسلسلہ روزگار یونان مقیم تھے .کچھ عرصۂ وہاں بھی رہیں .ابا جی نے کہا بادشاہو ! اڑوس پڑوس کی خواتین کا آنا جانا ہے .آپ کوشش کر کے یونانی زبان کے کچھ الفاظ سیکھ لیں .خوش آمدید شکریہ اور خدا حافظ جیسے الفاظ تو آپ کو یاد ہونے ہی چاہییں.کہنے لگیں ، ان میں تو شرم ہی نہیں ،نیکریں پہن کر گھومتیں ہیں.انتہائی بے شرمی سے سائیکل چلاتی ہیں ناں ہڑیا! میں نے تو پنج سورہ کی تلاوت کرنا ہوتی ہے .آپ چاہتے ہیں میں ان کی بولی بول کر اپنی زبان پلید کر لوں.بھاپ والے دیگچے کو ہم سارے پریشر ککر کہتے .لیکن بے جی اس کو کا چا رولا کہتی تھیں .ساری زندگی ان کو احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ بھی یونانی لفظ ہے جس کے معانی دیگچے کے ہیں.کبھی ابا جی کہتے یہ جو ایتھنز کو اتھینا کہتی ہو تو ؟ سمجھتیں رہیں عزیز کے ابا مذاق کرتے ہیں کبھی دھیان ہی نہیں دیا .کبھی سوچتا ہوں .جتنا ان کو علم تھا اس پر پکا ایمان پورا یقین و اطمینان .گجرات کے نواح میں حافظ محمّد حیات نامی بزرگ کا مغلوں کے دور سے شاندار مزار اور وسیع زرعی اراضی (اسی زمین پر بعد میں گجرات یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا )ہے .ان بزرگوں سے ابّا جی اور ان کے اجداد کو خاص عقیدت تھی .بچپن میں میں بھی کئی بار وہاں گیا .بہت پیار محبت ملتی بڑی رونقیں ہوتیں . جب کبھی دعا کرنا مقصود ہوتی تو اللہ اور اس کے رسول پاک کے بعد بابا جی حافظ حیات کا حوالہ ضرور دیتیں .
     ساتھ والے گاؤں میں گھنے درختوں کا ایک جھنڈ پیر جھاڑ کے نام سے ہے.اس کے بارے میں مشہور ہے .کہ وہاں سے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ،اور جو ایسا کرے اسے نقصان پہنچتا ہے .فورا کسی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے .اس خوف کی وجہ سے کوئی اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا .درخت نہ کاٹنے کی وجہ سے ایک چھوٹا سا جنگل بن گیا ہے.علاقے کے عامل وہاں چلہ وغیرہ بھی کاٹتے ہیں .پورے علاقے میں پھلاہی کے کچھ درخت وہاں ہی رہ گئے تھے.ایک دن میرے ہاتھ میں پھلاہی کی مسواک دیکھ کر جو میں نے دوسرے گاؤں سے منگوا رکھی تھی.پوچھا یہ کہاں سے لی؟مجھے شر ا رت سوجھی ،میں نے کہا پیر جھاڑ سے!وہ پریشان ہو گئیں.تو میں نے مزید کہا اگر آپ کہیں تو گھر میں استعمال کے لئے ایندھن کے طور پر لکڑیاں بھی لا سکتا ہوں .سن کر پریشان ہو گئیں .انجانا پیر جو اپنے درخت کاٹنے پر جھاڑ کرتا ہے سے بولیں!یہ بے وقوف انجان بچہ ہے اسے معاف کر دیں.میں سمجھ لوں گی.ان کی تکلیف اور پریشانی دیکھ کر مجھے پچھتاوا ہوا حقیقت بتا کر معافی تو مانگ لی،مگر پھر بھی چونکہ بے جی کا بچہ سیدھا سادہ  اور بھولا بھالا تھا لہٰذا میرے کچھ اونچے پائنچے  والے دوستوں سے جو ان  کے خیال میں مجھے بگاڑ  رہے تھے سے میل جول پر ہلکی پابندی لگا دی گئی. 

     جب اذان کی آواز کانوں میں پڑتی تو بے اختیار صدقے یا  رسول اللہ کہتیں.اور لفظ محمّد آنے پر قرة العين لك يا رسول الله کہ کر انگلیوں کی پوریں چومتیں اور آنکھوں کو لگاتیں .ہمارے گاؤں میں دو مساجد تھیں سال ١٩٨٧ میں کوئی ایسی لہر اٹھی ،مساجد دو فرقوں میں تقسیم کیا ہوئیں کہ پورا گاؤں سنیوں اور وہابیوں میں بٹ گیا .بے جی کو جب پتہ چلا کہ جھگڑا اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے اور نہ پڑھنے کا ہے .تو اس گروہ کے خلاف ہو گئیں .جو اذان سے پہلے درود شریف نہیں پڑھتا تھا. پہلے پہل ان کو اعتراض فقط یہ تھا کہ وہابی چونکہ اذان دینے سے پہلے درود شریف نہیں پڑھتے لہٰذا   تراہ   (ہکا بکا رہ جانا،چونک جانا  یا ڈر  جانا  )نکل جاتا ہے.پھروہ دلیل دینے لگیں !   بغیر وسیلے کے تو چھت پر نہیں چڑھا جا سکتا بھلا بغیر رسول الله اور قرآن کی سیڑھی  کے الله تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟
     کبھی ہمارے ہاں آتیں ،تو کالے دروازوں والے اتنے سارے گھر دیکھ کر ان کو بھوہن (چکر ) چڑھ جاتے .اور اپنے اودل لطیف (عبداللطیف )کا گھر ڈھونڈنے میں بہت مشکل ہوتی .آخر ایک دروازہ جس پر چاک سے کچھ زیادہ ہی مصوری ہوئی تھی،انہوں نے پہچان لیا کہ ایسے فوجی تو میرا شکیل بناتا ہے.اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بے جی کی سہولت کے لئے مجھے آئندہ کے لئے باہر کے دروازوں پر اوٹ پٹانگ مصوری کی چھوٹ مل گئی.

     (محمّد شکیل چودھری )

فیئر اینڈ لولی

                       فیئر اینڈ لولی
                           
      میرا ساتھی دوست ان دنوں نہانے سے       پرہیز کر رہا 
ہے
کیونکہ اس مہینے وہ چھٹیوں میں پاکستان جانے والا ہے اور اگر اس کا پکا رنگ نکل آیا ، جو اس نے فیئر اینڈ لولی کے کئی لیپ کرنے کے بعد بڑی مشکل سے چھپایا ہے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا .
     میری بے جی( رحمت الله  علیہ )کہا کرتیں میرا بچہ کوئی کالا ہے یہ تو کنک ونه (گندمی ) ہے اور مرد ایسے ہی خوبصورت ہوتے ہیں.یا ماموں جی ( رحمت الله علیہ ) کہا کرتے ! کالا شاہ کالا میرا کالا اے محبوب تے گوریاں نوں پیچھاں کرو .تو میں کہتا اچھا تو یہ شاہوں (بادشاہوں ) کا رنگ ہوا . یا میں جواب دیتا ! اے حبش ملک دا حبشی ماما شاہ کالا توں کیوں کرنا ایں پیار اے کالا شاہ کالا . مختصر یہ کہ مجھے شروع سے تسلی رہی کہ میں پکے رنگ کا مالک ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ ہم میں سے اکثر لوگ کچے کو پکا کرنے کی بجاۓ ، پکے کو کچا کرنے پر کیوں تلے ہیں ؟