اتوار، 24 جولائی، 2016

     ہندو پالش  (classes in class ) 
     شایدہندومعاشره  کا اثر ہے کہ غیر ہندو کی طرح غیر مسلم کے برتن علیحدہ رکھے جاتے ہیں حتی کہ ہمارے گھروں میں غیر مسلم کو  جب دودھ چاۓ یا  لسی دی جاتی   تو خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی چھینٹ پاک برتن کو ناپاک نہ کر دے.
     جناب تیمور دینیات کے سخت گیر استاد تھے اور جناب جوزف موسیقی پڑھاتے یا  سکھاتے تھے.ایمان کی حفاظت  کے پیش نظر جوزف صاحب کے سموسے پکوڑے بسکٹ  اور چپس کی تھالی اور چائے کی پیالی کے نیچے ایک نیک صورت استانی کی ناخن پالش سے نشان لگا دیے  گئے تھے.
     اس دن تیمور صاحب درس  میں ایسے مگن ہوئے کہ چائے کے وقفے کا احساس بھی جاتا رہا ،میں جو مانیٹر کا  بیج اور پراکٹر کی پٹی  لگاتا تھا ، دوڑا  بھاگا جوزف صاحب کی پلیٹ میں بسکٹ اور پیالی میں چائے انڈیلی اور استاد محترم مولوی تیمور الحق خان صاحب کی خدمت  میں رکھ دی.ان کے رخصت ہونے پر جب پوری جماعت اتنی لمبی سورتیں گھر کے کام کے طورملنے  پر پریشان تھی  کو نشان زدہ پیالی اور پلیٹ  الٹی  کر کے جو دکھائی.تو سارے جماعتیوں کے دکھ دور ہو گئے .
     الله معاف کرے ! شائد وہ مذاق ہی تھا کہ آج ایک عمر  ہو گئی عیسائیوں کے ساتھ کھاتے پیتے .

اتوار، 26 جون، 2016

    محبت 
     الله بخشے اماں  جی خوش مزاج خاتون  تھیں میری ماں سے بولیں ! نی کڑیے تیرے لڑکے کو جب بلاتی ہوں تو کہتاہے  جی اماں جی ، کہا بیٹھو تو بولا ! جی اماں  جی .کیوں بگاڑ رہی ہو کمی کمینوں کی طرح جی جی کرتا پھرے گا.  رعب نہ ہوا تو جاٹوں کا لڑکا کیا عجب  لگے گا.
     ہمارے گھر میں کھانے  کے وقت آوارہ  بلیوں  اور کتوں کو ہمیشہ بانٹ کر کھانا دیا جاتا اور انتظار ہوتا کہ فلاں کتا یا بلی ابھی نہیں پہنچی .اس کے لیے روٹی رکھ دی جاتی .
     اماں جی کے آنے پر ہم خوش تھے .کھانے  میں ابھی  کچھ وقت باقی تھا. کہ ایک کتیا آ بیٹھی ، منڈیر  سے اترتے بلے پرجو غرائی ،تو اماں جی متوجہ ہوئیں اور جھٹ  سے پھنکنی  دے ماری .مجھے کوسنے  کے بعد بڑے فخر سے بتایا ان کا لعل جو مجھ سے کہیں چھوٹا ہے نے پچھلے دنوں گلی سے گزرتی تیلیوں  کی کتیا  کی ایسے ہی پھنکنی  مار کر کمر توڑ  دی تھی اب گلیوں میں گھسٹتی  پھرتی ہے .مجال ہے جو ہمارے گھر کوئی بلی کتا آئے .تف تیرے اتنے ہونے پر .
     جہاں  میں بیٹھتا ہوں میرے جیسے انسانوں سے ان فاختاؤں کو بھی کوئی ڈر نہیں .ہمارے درمیان جو  محبت ،اعتبار اور بھروسہ ہے وہ مجھے سرشار رکھتا ہے الله بخشے اماں  جی کو میں اب  ان کو کیسے بتاؤں .

جمعرات، 23 جون، 2016

     چکر 
     وہ  بتایا کرتیں وہ سمجھایا  کرتیں.
     ان کے دادا ایک صوفی منش چودھری  جب کہ دادی ایک روایتی  ظالم ساس تھیں .
     صابر و شاکر،محبت کے محور و مرکز  ابا  جب کہ  ساس ،دیور اورنندوں کے  ستم سہتی بیچاری اماں.
     ہمیشہ سے بے ایمان پرلے درجے کا جھوٹا چا چا  اور اس کی پشت پرعیار چاچیاں  .
     شرارتی ، لالچی پھوپھا اور سارے فساد کی جڑ فسادی پھوپھیاں.
     بعد الموت کا انصاف تو بعد کی بات 
     آج ...
     کئی برسوں بعد ......
     ان کی پوتیاں ......
     بن بتاۓ بن سمجھاۓ  
     سب ....
     کے بارے میں ٹھیک  ایسے ہی خیالات ایسے ہی جذبات رکھتی ہیں.

بدھ، 4 مئی، 2016

      سنہرے دن 

گزارے بچپن کے دن  گاؤں  میں 
کڑی دھوپ اور گھنی چھاؤں میں

وہ مسجد میں ذکر خدا اور رسول 
وہ بھاٹی پرائمری تک پرانا سکول

جو شور ندی سے پانی کا آئے
تو تیر تیر کر ندی میں نہائے

جب بھی کبھی آتا ابّا گھر 
تحائف کے لاتا صندوق بھر

سر شام جب دوہی جائے گائے
تو بے دودھ کی دھاریں پلائے

بلاتی تھی لیکن دی نہ کبھی صدا
دییے جل گئےمحمد اب تو گھر آ