وہ بتایا کرتیں وہ سمجھایا کرتیں.
ان کے دادا ایک صوفی منش چودھری جب کہ دادی ایک روایتی ظالم ساس تھیں .
صابر و شاکر،محبت کے محور و مرکز ابا جب کہ ساس ،دیور اورنندوں کے ستم سہتی بیچاری اماں.
ہمیشہ سے بے ایمان پرلے درجے کا جھوٹا چا چا اور اس کی پشت پرعیار چاچیاں .
شرارتی ، لالچی پھوپھا اور سارے فساد کی جڑ فسادی پھوپھیاں.
بعد الموت کا انصاف تو بعد کی بات
آج ...
کئی برسوں بعد ......
ان کی پوتیاں ......
بن بتاۓ بن سمجھاۓ
سب ....
کے بارے میں ٹھیک ایسے ہی خیالات ایسے ہی جذبات رکھتی ہیں.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں