جمعرات، 28 جون، 2018

                   شعب ابی طالب کا حبیب


      ہم  دیہاتیوں کی پہلی پہچان گاؤں اور پھر  برادری ہوتی ہے.یہ اس زمانےکی بات ہے جب دیسی استاد گالی  دیتے تو محسوس ہوتا جیسے کوئی منہ بھر کر پنجابی بول رہا ہو .
     جماعت ششم میں مختلف دیہات کے طلبہ کا پہلا دن تھا. وہ بیچارہ قوم کے سوال پر جو ذرا جھجھک کر منمنایا ....جی...اجی .....کاسبی (جولاہا )،تو اس کی شامت آ گئی.
     محترم استاد نے پہلے توجی بھر کر  مزے لے لے کر  منہ بھرا پھر بتایا کہ عربی میں کسب کام کو ،جب کہ کسبی یا کاسبی کام کرنے والے کو کہتے ہیں.پھر انگلیوں کی پوریں چوم کر حدیث مبارک بیان کی.الکاسب و حبیب اللہ .یہ بات اس کے دل کو لگی اور اسے ذرا تسلی ہو گئی 
     اس سے پہلے کہ سبق شعب ابی طالب تک پہنچتا اس کے باپ کا حقہ پانی بند ہو چکا تھا اور گاؤں کے سارے ابوجہل ظاہر ہو چکے تھے.اسے حبیب اللہ سے ایک بار پھر کاسبی  بننا پڑا .

ہفتہ، 9 جون، 2018

                          بختے!
      



   آپ اتنی بڑ ی ہو گئی ہو 
ابھی تک چڑ ی روزے رکھتی ہو !
اور پھر رمضان شریف میں تاش کھیلتی ہو بختے! 
     میں نے جو چھیڑا ,
 تو بولی
 یہ جو میری ماں ہے نا, 
یہ مجھے سحری کے لیے نہیں جگاتیں.
     مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ محترمہ نے اکیلے ہی پوری رات سحری کے انتظار میں جاگ کر گزاری اور چڑ ی روزے چھوڑ کر اپنا پہلا مکمل روزہ رکھ کر مجھے سرشار کردیا.میں جو خوشی سے نہال ہوں 
     تو .......کیا چاہوں ! تو علیم و خبیر جو ...... تو چاہے..امین