شعب ابی طالب کا حبیب
ہم دیہاتیوں کی پہلی پہچان گاؤں اور پھر برادری ہوتی ہے.یہ اس زمانےکی بات ہے جب دیسی استاد گالی دیتے تو محسوس ہوتا جیسے کوئی منہ بھر کر پنجابی بول رہا ہو .
جماعت ششم میں مختلف دیہات کے طلبہ کا پہلا دن تھا. وہ بیچارہ قوم کے سوال پر جو ذرا جھجھک کر منمنایا ....جی...اجی .....کاسبی (جولاہا )،تو اس کی شامت آ گئی.
محترم استاد نے پہلے توجی بھر کر مزے لے لے کر منہ بھرا پھر بتایا کہ عربی میں کسب کام کو ،جب کہ کسبی یا کاسبی کام کرنے والے کو کہتے ہیں.پھر انگلیوں کی پوریں چوم کر حدیث مبارک بیان کی.الکاسب و حبیب اللہ .یہ بات اس کے دل کو لگی اور اسے ذرا تسلی ہو گئی
اس سے پہلے کہ سبق شعب ابی طالب تک پہنچتا اس کے باپ کا حقہ پانی بند ہو چکا تھا اور گاؤں کے سارے ابوجہل ظاہر ہو چکے تھے.اسے حبیب اللہ سے ایک بار پھر کاسبی بننا پڑا .

