ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

یاد

      نہ جانے  کیوں کچی  پکی  پہلی  دوسری  پاس کر کے  جب تیسری میں پہنچتا  تو دوسری  اور پہلی کا سبق بھول چکا ہوتا .لہٰذا  اسے کئی  بار تیسری جماعت سے  واپس پہلی جماعت میں بیٹھایا  گیا اور کئی سال اس کا تعلیمی سفر اسی  دائرے تک محدود رہا.
     قدرتی طور پر بارش آندھی  اور طوفان سے وہ بہت ڈرتا تھا .ہمجولی اگر مذاق میں کہہ دیتے  لگتا ہے آندھی آ رہی ہے اور بارش بھی برسے گی .تو وہ ڈر  کر سرپٹ دوڑ  لگا دیتا .اپنے گھر کی پچھلی کوٹھری اس کی منزل ہوتی.
     ہاں جوانی میں جب وہ مویشیوں  کے لیے  چارہ  چوری کرنے جاتا .تو  بڑی  تیاری سے جیسے بینک ڈکیتی  کا قصد ہو.
     آج ایک بڑے اشتہار پر اس کی بڑی  تصویر کے نیچے لکھا ہے .  تعلیم یافتہ ،  جرأت  مند  اور دیانت  دار قیادت ..... آپ کے ووٹ کا صحیح  حقدار . انتخابی  نشان .........یاد  رکھیں .

جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

ایم اے انگلش

                           ایم اے انگلش
     فارم میں ہے کیا ؟نام کا پہلا  اور دوسرا حصہ ، والدین کے نام  ،تاریخ اور جاۓ پیدائش .ملک .رہائشی  پتہ  فون تاریخ ، ٹیلیفون نمبر اور آخر میں اپنے دستخط .بس !ایک پانچ پاس پورے پانچ یورو میں یہ پر کرتا ہے .کبھی چھوٹی  اور کبھی موٹی غلطی بھی ہو جاتی ہے.پورے پانچ برس بعد چونکہ کچھ بھی تو میل نہیں کھاتا .لہٰذا پورے پانچ سو وکیل کو دے  کر کہتا ہے آئی ایم   ایم اے انگلش .
   میں ذرا بھی تو حیران نہیں ہوا کیوں کہ  میرے بہت سارے فیس بکئے  یار بھی تو آکسفورڈ  اور پنجاب  یونیورسٹی سے فارغ التحصیل  ہیں.

یونیورسٹی

                              یونیورسٹی
      نکلے ہوۓ  پیٹ کے ساتھ پست قامت  لیکن اطوار سے  وہ  مجھے بنگال  کا شیر لگا اس کی پھرتیاں دیکھ کر مجھے مدھیہ پردیش  کا موگلی اور ایجر رائس  کا  ٹارزن  بھی یاد آئے .جس تواتر سے وہ اپنی  ناک میں انگلیاں پھیر رہا تھا ،مجھے لگا بالکل اس طریقے سے اس نے کبھی اپنے نتھنے کھلے کیے  ہوں گے .
     بڑے انہماک سے ایک تعارفی فارم  پر کر رہا تھا ایک مقام پر اٹک گیا اور کچھ دیر پہلے ان دو میں سے ایک انگلی جو نتھنوں میں پھیر رہا تھا اس نے اپنے دانتوں کے نیچے دبا لی.تعلیمی قابلیت کے خانے  میں اس  نے لکھا تھا ایس  کے او  ایل (سکول ) اور کے اے ایل اے جے (کالج ).میں  اسے ہجوں کی درستگی کرواتے  ہوۓ سوچ رہا تھا اب یہ میرا شکریہ ادا کرے گا لیکن وہ  کہنے لگا بھیا ! یونیورسٹی  کے  سپیلنگ کیا ہوۓ ؟

منگل، 13 اکتوبر، 2015

وسیلہ

     
     داڑھی والے صاحب زمین پر آلتی پالتی  مارے بیٹھے تھے میرا وہ جذبہ  جو ایسے صاحبان یا پھر خواتین کو دیکھ کر جاگتا ہے کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے سلام کے بعد ان کو ساتھ لیا کرسی پر بیٹھایا پانی پلایا اور احوال پوچھا تا کہ الله کریم کے ہاں کچھ نمبر بناۓ جا سکیں .اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواست کے مطابق جس میں نام کا پہلا حصہ علامہ  درج تھا.ذرا جو فرصت  ملی  حضرت نے میرا نام اور حدود اربعہ جاننے کے بعد  رابطہ نمبر مانگا.جو اتنا ذاتی بھی نہیں ہے لیکن اس وقت مناسب نہ تھا.حضرت کہنے لگے ایک بات پوچھنی تھی کہ ................کارڈ بنوانے کا طریقہ کیا ہے .میں نے مسکرا کر  ان کو تسلی دی اور بتایا آپ کا کارڈ بن گیا ہے اور طریقہ بھی آپ جانتے ہیں .حضرت علامہ  خاص انداز سے گویا ہوۓ..میرا  خیال تھا ....میرے کچھ دوست ..........کچھ  لے....... دے...... کے .میں مسکرایا  تو دوبارہ ارشاد فرمایا  آپ بھی کھائیں اور ہمیں بھی کھلائیں.میں نے کہا ....ملا!        رزق کی اتنی فکر نہ کیا کرو جواب میں فرمانے لگے کوئی وسیلہ  بھی تو بنتا ہے صاحب ................

قوم ملک وملت

     

     مجھے لگتا ہے یہ جو کریم نے اپنےکرم سے  قوم ملک وملت بناۓ  ہیں سب صرف میریسہولت کےلیے ہے. جب تو میں کہتا ہوں پیارا پاکستان .بھارت .فلپائن سری لنکا ،مالدیپ انڈونیشا اس طرف ..مشرقی پاکستان معافی چاہتا ہوں بنگال  بنگلہ دیش اور میانمار اس طرف ..All African side in front of me...كل  لل عرب هنا... ایرانی و افغانی منتظرباشد ...پھر  پشتون بھائیوں سے کہنا پڑتا ہے ؛ التا  آرام  سارا ادریکا ؛ واہ سبحان الله .
     وہ کہتا ہے سارے سمجھ جاتے ہیں ایک بار دو بار لیکن ایک یہ جو تیرے ہیں ... سو بار بھی نہیں.میں سوچتا ہوں کمہارن  آخر کب تک اپنے برتنوں کو سراہے .....تنگ  آ کر اس سے کہتا ہوں گله دیکھا ہے نا ؟ یہ گلہ ہے بیچارہ .......... گلہ بان   کے بغیر.  وہ مطمئن ہو کر ہنس دیتا ہے جب کہ میرا      جی     روتا  ہے. 

پیر، 12 اکتوبر، 2015

حیرانگی

     کترینا ایک پڑھی لکھی خاتون ہے وہ مختلف مذاھب اور معاشروں کے بارے میں بے پناہ معلومات رکھتی ہے  اسی لئے تو اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے .میری حثیت  توفقط  ایک رابطہ کار کی ہے جو فریقین  کے الفاظ کو ان کی  مادری زبانوں میں بدل کر پیش کرتا ہے  .
    سوال ! تم شادی شدہ ہو ؟
    جواب ! نہیں .
    سوال !تمہارے کتنے بچے ہیں ؟
    میں درخواست گذار  سے پوچھے  بغیر جواب دیتا ہوں ،کوئی نہیں .
    اعتراض کیا جاتا ہے کہ میں نے پوچھے بغیر جواب دیا ہے .
    میں شرمندگی سمیٹتے  ہوئےمسکرا کر سوال کرتا ہوں 
    جواب میں نوجوان شرمندہ ہو کر مسکرا دیتا ہے 
    دوبارہ اعتراض کیا جاتا ہے     چرا لبخند؟
    ناچار مجھے بتانا پڑتا ہے    we have no bastard 
    سارے ممبران کھل کر ہنستے ہیں جب کہ کترینا حیرت زدہ ہے. 

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

ریوڑ

     میں بالکل  اس طرح جیسے محبوب سے بات کرتا ہوں  السلام علیکم میرے بچو ، بھائیو  اور بزرگو !احوال پوچھتا ہوں اور تسلی دیتا ہوں.سب راضی  خوش نظر آتے ہیں فورا ایک خاندان ایک گھر کا سا ماحول بن جاتا ہے.پھر صلاح دیتا ہوں اگر اپنی سہولت کے لیے ایک قطار بنا لیں براہ  کرم  درمیان سے اپنے آنے جانے کے لیے راستہ بھی رہنیں دیں .بار بار دہراتا ہوں ایک ایک سے استدعا کرتا ہوں.لیکن کوئی بھی تو ٹس سے مس  نہیں ہو رہا .آخرمیرے ساتھی کو شک گزرا تو اس نے سوال کیا یہ تمہاری زبان سمجھ تو رہے ہیں؟پھر مجھے اپنی بکریاں بیل بھینسیں  گدھا اور گھوڑا  یاد آیا .جو مجھے سنتے تھے اور ٹک  ٹک  دیدے پھاڑ کر دیکھتے تھے .حیوان ، بے زبان   بیچارے .
     آخر ایک چرواہے کا بچہ جس نے کمر کے ساتھ ڈنڈا  لٹکا رکھا ہے کے گلا  پھاڑ  کر ایک مرتبہ   "  ہے "   کہنے کی دیر تھی .کہ ساری  کی ساری  بھیڑ بکریاں گائے بھینسیں  گدھے اور گھوڑے ہانپتے کانپتے  گرتے پڑتے  اپنے اپنے تھانوں پر جا کھڑے  ہوتے ہیں.
     میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں کہ میں بھی اسی ریوڑ میں سے ایک ہوں .