ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

یاد

      نہ جانے  کیوں کچی  پکی  پہلی  دوسری  پاس کر کے  جب تیسری میں پہنچتا  تو دوسری  اور پہلی کا سبق بھول چکا ہوتا .لہٰذا  اسے کئی  بار تیسری جماعت سے  واپس پہلی جماعت میں بیٹھایا  گیا اور کئی سال اس کا تعلیمی سفر اسی  دائرے تک محدود رہا.
     قدرتی طور پر بارش آندھی  اور طوفان سے وہ بہت ڈرتا تھا .ہمجولی اگر مذاق میں کہہ دیتے  لگتا ہے آندھی آ رہی ہے اور بارش بھی برسے گی .تو وہ ڈر  کر سرپٹ دوڑ  لگا دیتا .اپنے گھر کی پچھلی کوٹھری اس کی منزل ہوتی.
     ہاں جوانی میں جب وہ مویشیوں  کے لیے  چارہ  چوری کرنے جاتا .تو  بڑی  تیاری سے جیسے بینک ڈکیتی  کا قصد ہو.
     آج ایک بڑے اشتہار پر اس کی بڑی  تصویر کے نیچے لکھا ہے .  تعلیم یافتہ ،  جرأت  مند  اور دیانت  دار قیادت ..... آپ کے ووٹ کا صحیح  حقدار . انتخابی  نشان .........یاد  رکھیں .

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں