میں بالکل اس طرح جیسے محبوب سے بات کرتا ہوں السلام علیکم میرے بچو ، بھائیو اور بزرگو !احوال پوچھتا ہوں اور تسلی دیتا ہوں.سب راضی خوش نظر آتے ہیں فورا ایک خاندان ایک گھر کا سا ماحول بن جاتا ہے.پھر صلاح دیتا ہوں اگر اپنی سہولت کے لیے ایک قطار بنا لیں براہ کرم درمیان سے اپنے آنے جانے کے لیے راستہ بھی رہنیں دیں .بار بار دہراتا ہوں ایک ایک سے استدعا کرتا ہوں.لیکن کوئی بھی تو ٹس سے مس نہیں ہو رہا .آخرمیرے ساتھی کو شک گزرا تو اس نے سوال کیا یہ تمہاری زبان سمجھ تو رہے ہیں؟پھر مجھے اپنی بکریاں بیل بھینسیں گدھا اور گھوڑا یاد آیا .جو مجھے سنتے تھے اور ٹک ٹک دیدے پھاڑ کر دیکھتے تھے .حیوان ، بے زبان بیچارے .
آخر ایک چرواہے کا بچہ جس نے کمر کے ساتھ ڈنڈا لٹکا رکھا ہے کے گلا پھاڑ کر ایک مرتبہ " ہے " کہنے کی دیر تھی .کہ ساری کی ساری بھیڑ بکریاں گائے بھینسیں گدھے اور گھوڑے ہانپتے کانپتے گرتے پڑتے اپنے اپنے تھانوں پر جا کھڑے ہوتے ہیں.
میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں کہ میں بھی اسی ریوڑ میں سے ایک ہوں .
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں