جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

یونیورسٹی

                              یونیورسٹی
      نکلے ہوۓ  پیٹ کے ساتھ پست قامت  لیکن اطوار سے  وہ  مجھے بنگال  کا شیر لگا اس کی پھرتیاں دیکھ کر مجھے مدھیہ پردیش  کا موگلی اور ایجر رائس  کا  ٹارزن  بھی یاد آئے .جس تواتر سے وہ اپنی  ناک میں انگلیاں پھیر رہا تھا ،مجھے لگا بالکل اس طریقے سے اس نے کبھی اپنے نتھنے کھلے کیے  ہوں گے .
     بڑے انہماک سے ایک تعارفی فارم  پر کر رہا تھا ایک مقام پر اٹک گیا اور کچھ دیر پہلے ان دو میں سے ایک انگلی جو نتھنوں میں پھیر رہا تھا اس نے اپنے دانتوں کے نیچے دبا لی.تعلیمی قابلیت کے خانے  میں اس  نے لکھا تھا ایس  کے او  ایل (سکول ) اور کے اے ایل اے جے (کالج ).میں  اسے ہجوں کی درستگی کرواتے  ہوۓ سوچ رہا تھا اب یہ میرا شکریہ ادا کرے گا لیکن وہ  کہنے لگا بھیا ! یونیورسٹی  کے  سپیلنگ کیا ہوۓ ؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں