داڑھی والے صاحب زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے میرا وہ جذبہ جو ایسے صاحبان یا پھر خواتین کو دیکھ کر جاگتا ہے کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے سلام کے بعد ان کو ساتھ لیا کرسی پر بیٹھایا پانی پلایا اور احوال پوچھا تا کہ الله کریم کے ہاں کچھ نمبر بناۓ جا سکیں .اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواست کے مطابق جس میں نام کا پہلا حصہ علامہ درج تھا.ذرا جو فرصت ملی حضرت نے میرا نام اور حدود اربعہ جاننے کے بعد رابطہ نمبر مانگا.جو اتنا ذاتی بھی نہیں ہے لیکن اس وقت مناسب نہ تھا.حضرت کہنے لگے ایک بات پوچھنی تھی کہ ................کارڈ بنوانے کا طریقہ کیا ہے .میں نے مسکرا کر ان کو تسلی دی اور بتایا آپ کا کارڈ بن گیا ہے اور طریقہ بھی آپ جانتے ہیں .حضرت علامہ خاص انداز سے گویا ہوۓ..میرا خیال تھا ....میرے کچھ دوست ..........کچھ لے....... دے...... کے .میں مسکرایا تو دوبارہ ارشاد فرمایا آپ بھی کھائیں اور ہمیں بھی کھلائیں.میں نے کہا ....ملا! رزق کی اتنی فکر نہ کیا کرو جواب میں فرمانے لگے کوئی وسیلہ بھی تو بنتا ہے صاحب ................

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں