اتوار، 27 مئی، 2018

                              چچا
      ابو طالب اپنے بھتیجے محمد Mohamed peace be upon him.svg کے خدا ،جب کہ محمد Mohamed peace be upon him.svg چچا  ابو طالب کے خداؤں کو نہیں مانتے تھے .اس کے باوجود چچا کو اپنا بھتیجا Mohamed peace be upon him.svg اپنے بچوں سے بڑھ کر عزیز تھا.جب تک ابو طالب زندہ رہے کفار کے خلاف محمدMohamed peace be upon him.svg  کی ڈھال تھے .
     پھر حمزہ و عباسرضی اللہ تعالٰی عنہ  ہیں جوبہت سارے خداؤں کو چھوڑ کر نہ صرف  محمد رسول اللہMohamed peace be upon him.svg  کے اکیلے خدا پر ایمان لاۓ بلکہ اپنے رسولبھتیجےMohamed peace be upon him.svg  اور اس کے رب کے  دین کی سربلندی و سرفرازی کی  خاطر زندگیاں نچھاور  کر دیں .
     آخر میں ابو جھل و ابو لھب ہیں جنہوں نے  یتیم بھتیجےMohamed peace be upon him.svg  کو ستانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور جان کے درپے رہے .
     جھوٹ اور سچ کی ملی جلی  اس دنیا میں یہ  جنگ یہ دلچسپ  تقسیم آج بھی کسی نہ کسی صورت موجود ہے .
     سوال یہ ہے 
     کہ آپ اس کھیل کے کس خانے میں موجود  بیٹھے یا کھڑے  ہیں ؟

جمعرات، 24 مئی، 2018

                                     بھائیا!


     میں جب بچہ تھا تو سوچتا کہ ابوجی کی داڑھی بھی نہیں ,پھر بھلا یونٹ میں سارے لوگ ان کو صوفی صاحب کیوں کہتے ہیں.آخر کچھ سمجھ آئی . کہ اس کی وجہ
ان کی پرہیز گاری و تہجد گزاری ہے. 
عبدل لطیف (الله کا بندہ) 
اس نام کا انہوں نے پورا بھرم رکھا لگ بھگ چھبیس برس سخت بیماری کی حالت میں بھی ان کے معمولات میں کوئی فرق نہیںآیا.
ابھی کل کی بات ہو جیسے
مجھے کہنے لگے انھیں سہارا دوں کہ وہ
کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا چاہتے ہیں.لیکن ایسا نہ ہو سکا.
میں بہت خوش ہوں میرے لئے یہ کافی ہے
کہ الله کا بندہ اپنے الله کے پاس ہے
کہ وہ بغیر کسی درد دکھ تکلیف کے بلند آواز سے اپنی خاص سر میں تلاوت کے بعد حمد و نعت, مدح و منقبت, ثناء و ستائش کر رہے ہوں گے .رکوع اور سجدے پر سجدے دے رہے ہوں گے.ایک مدت جو ہو گئی تھی ان کو بیٹھ کر لیٹ کر پردے میں بندگی کرتے.
اب جو اپنے خالق کے پاس ہو !
جو بے بے جی سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے!
دکھ درد دور ہوئے !
ہم تمہیں کہاں یاد ہوں گے بھائیا!
واہ بھئی واہ !

                   یوم ابّا ا ا ا.........  
                    
      میری فقط اس بات پر بھی ماں سے پٹائی ہوئی کہ دوسرے بچے جب روتے ہیں تو   اپنی اپنی ماؤں کو پکارتے ہیں ایک یہ ہے جو کہتا ہے ابّا ا ا ا ... 
کیوں نہ کہتا وہ میرے یار میرے غمخوار میرا پہلا پیار تھے. 
الله رحیم اپنی رحمت سے ان کے درجات بلند فرمائے. امین
! یوم ابّو                   
میں ہمیشہ پہلے کچھ دن گاؤں رہنے کے بعد والدین کے پاس رسالپور جاتا     .
ابو جی پوچھتے بھائیا! واپسی کب ہے? 
اور واپسی پر مجھے کراچی کی ٹکٹ تیار ملتی
 امی نے پوچھا باؤ ! شکیل کی تنخو اہ کتنی ہو گی?
بولے میرے اجی! نے مجھ سے آج تک نہیں پوچھا..
میں کون ہوتا ہوں پوچھنے والا.
     واہ بھائیا!
 میں قربان جاؤں.تو سکھی رہے جس کے تو گیت گاتا تھا اس کی  شفاعت  نصیب ہو.آمین