جمعرات، 24 مئی، 2018

                                     بھائیا!


     میں جب بچہ تھا تو سوچتا کہ ابوجی کی داڑھی بھی نہیں ,پھر بھلا یونٹ میں سارے لوگ ان کو صوفی صاحب کیوں کہتے ہیں.آخر کچھ سمجھ آئی . کہ اس کی وجہ
ان کی پرہیز گاری و تہجد گزاری ہے. 
عبدل لطیف (الله کا بندہ) 
اس نام کا انہوں نے پورا بھرم رکھا لگ بھگ چھبیس برس سخت بیماری کی حالت میں بھی ان کے معمولات میں کوئی فرق نہیںآیا.
ابھی کل کی بات ہو جیسے
مجھے کہنے لگے انھیں سہارا دوں کہ وہ
کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا چاہتے ہیں.لیکن ایسا نہ ہو سکا.
میں بہت خوش ہوں میرے لئے یہ کافی ہے
کہ الله کا بندہ اپنے الله کے پاس ہے
کہ وہ بغیر کسی درد دکھ تکلیف کے بلند آواز سے اپنی خاص سر میں تلاوت کے بعد حمد و نعت, مدح و منقبت, ثناء و ستائش کر رہے ہوں گے .رکوع اور سجدے پر سجدے دے رہے ہوں گے.ایک مدت جو ہو گئی تھی ان کو بیٹھ کر لیٹ کر پردے میں بندگی کرتے.
اب جو اپنے خالق کے پاس ہو !
جو بے بے جی سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے!
دکھ درد دور ہوئے !
ہم تمہیں کہاں یاد ہوں گے بھائیا!
واہ بھئی واہ !

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں