بدھ، 25 نومبر، 2015

حور و کھجور

     کچے  گھروں کے درمیان مسجد کا پکا ہونا بہت عام  اور محبت کی علامت ہے .لیکن وہ نہ صرف  رنگ برنگے گلدستوں  سنہری تاروں جھنڈوں  جھنڈیوں اور جلتی بجتی ڈسکو بتیوں سے آراستہ تھی بلکہ جا بجا  مصوری بھی ہوئی تھی .مولانا کے عین  سامنے محراب کے اندر کھجور بنا دی گئی تھی .
     حضرت نے آیت پڑھی جس میں جنت کی کھجوروں کے باغات کا ذکر تھا اور بتایا اس طریقہ سے جب جنت کا منظر ذہن میں ہو، تو عبادت میں بھی مزہ آئے گا .
     میں نے ان کو یاد دلائی !قران کریم میں تو حوروں کا بھی ذکر ہے اگر دو چار حوریں بھی بنا دیتے تو بھی دل لگا رہتا .
     الله رحمان الرحیم آپ کا ،ان کا اور میرا بھلا کرے.امین 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں