اتوار، 26 جون، 2016

    محبت 
     الله بخشے اماں  جی خوش مزاج خاتون  تھیں میری ماں سے بولیں ! نی کڑیے تیرے لڑکے کو جب بلاتی ہوں تو کہتاہے  جی اماں جی ، کہا بیٹھو تو بولا ! جی اماں  جی .کیوں بگاڑ رہی ہو کمی کمینوں کی طرح جی جی کرتا پھرے گا.  رعب نہ ہوا تو جاٹوں کا لڑکا کیا عجب  لگے گا.
     ہمارے گھر میں کھانے  کے وقت آوارہ  بلیوں  اور کتوں کو ہمیشہ بانٹ کر کھانا دیا جاتا اور انتظار ہوتا کہ فلاں کتا یا بلی ابھی نہیں پہنچی .اس کے لیے روٹی رکھ دی جاتی .
     اماں جی کے آنے پر ہم خوش تھے .کھانے  میں ابھی  کچھ وقت باقی تھا. کہ ایک کتیا آ بیٹھی ، منڈیر  سے اترتے بلے پرجو غرائی ،تو اماں جی متوجہ ہوئیں اور جھٹ  سے پھنکنی  دے ماری .مجھے کوسنے  کے بعد بڑے فخر سے بتایا ان کا لعل جو مجھ سے کہیں چھوٹا ہے نے پچھلے دنوں گلی سے گزرتی تیلیوں  کی کتیا  کی ایسے ہی پھنکنی  مار کر کمر توڑ  دی تھی اب گلیوں میں گھسٹتی  پھرتی ہے .مجال ہے جو ہمارے گھر کوئی بلی کتا آئے .تف تیرے اتنے ہونے پر .
     جہاں  میں بیٹھتا ہوں میرے جیسے انسانوں سے ان فاختاؤں کو بھی کوئی ڈر نہیں .ہمارے درمیان جو  محبت ،اعتبار اور بھروسہ ہے وہ مجھے سرشار رکھتا ہے الله بخشے اماں  جی کو میں اب  ان کو کیسے بتاؤں .

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں