لباس
سونے جاگنے کھانے پینے نہانے دھونے کام کاج ، کبھی کبھار یوں لگتا ہے جیسے زندگی مختلف اوقات میں قید ہو کر رہ گئی ہو.
کبھی مہینے اور کبھی مہینوں بعد میں اس بندی خانے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں اس دن کسی کام کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا جو جی میں آئے وہ کرتا ہوں چائے کے وقت لسی اور لسی کے وقت دودھ ، جب کف کھلے اور قمیض کا صرف ایک اوپر کا بٹن بند ہو جب بنا بنیان کرتا پہنوں داڑھی نہ بناؤں تہبند میں مسجد اور چپل میں مارکیٹ جاؤں تو میرے گھر میں سارے جانتے ہیں یہ ٹینشن فری ڈے ہے .
ہی گزارا اور زندگی کی پہلی سلفیز لیں.
اب سمجھ آ رہی ہے حلیے تو لباس کی طرح ہوتے ہیں اندر سے انسان وہی پرانے والا ہی ہوتا ہے.اپنے باہر نہیں اندر کو بدلنے کی ضرورت ہے.اپنے الله کو بھی اسی اصل سے مطلب ہے.بہت پیار .
اب سمجھ آ رہی ہے حلیے تو لباس کی طرح ہوتے ہیں اندر سے انسان وہی پرانے والا ہی ہوتا ہے.اپنے باہر نہیں اندر کو بدلنے کی ضرورت ہے.اپنے الله کو بھی اسی اصل سے مطلب ہے.بہت پیار .
اعلیٰ
جواب دیںحذف کریں