اتوار، 5 جولائی، 2020

      بڑے  یار !
     ضعیف بڈھا باپ جس کا تکیہ کلام  * قبر میں ٹانگیں ہیں  میری *  بن چکا ہے  اور نیم بڈھا  بیٹا دونوں میرے یار ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مجھے پہا یا  (بھائی) کہتے ہیں.جب ایک دوسرے کا  گلہ  شکایت  یا  کوئی  مدعا ہو تو  مدعی  مدعی علیہ کا نام لینے کی بجاۓ تیرا یار کہہ کر مخاطب کرتا ہے  . شائد وہ سمجھتے ہوں کہ میرے پاس کوئی صلاح  ہو یا میرے سبب دوسرا فریق نرمی اختیار کرے میں  بھی ہمیشہ اسے اعزاز سمجھتا  ہوں اور کوشش کرتا ہوں کسی طور مداوا ہو .لیکن کبھی کبھار  مجھے لگتا ہے جیسے  باپ بیٹا چکی کے دو پاٹ اور  پہا یا  کو بلاوجہ  رگڑا دیتے ہوں.
     چھوٹا یار چاہتا ہے کہ  اب  جب کہ اس کے  اپنے بچوں کے چل چلاؤ  کی عمریں ہیں تو باپ کم از کم گھر جو اس  نے بڑی محنت اور جان  جوکھوں سے بنایا اس کے  نام کر دے لیکن  بڑا یار تو اس کا باپ ہے.  
     کچھ یوں سمجھاتا ہے 
سنو! سکندر اس دنیا فانی سے خالی ہاتھ گیا.
سنو! دنیا مٹی کا ڈھیر .
سنو! کفن کے جیب نہیں ہوتی. 
     پھر سوال کرتا ہے  
آج تک دیکھا کوئی کچھ  ساتھ لے جاتے ؟
میرے بڑے کوئی ساتھ لے گئے ہیں ؟
میں نے کچھ  ساتھ لے جانا ہے ؟
     آخر فیصلہ کرتا ہے 
یہ جو سب ہے تیرا ہے 
لیکن یہ جو تیرا ہے 
تجھے دینا نہیں .
     یہ سمجھانے سے پہلے سمجھنے کی باتیں ہیں ......بڑے  یار ! . 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں