ڈھیل
باپو احمد علی کا شمار گاؤں کے معمر اور انتہائی دانا لوگوں میں ہوتا ہے اس زمانے میں جلد شادی اور بچے ہو جاتے تھے باپواحما جو میرا یار ہے اس کا بڑا بیٹا گامو یہی کوئی ستر اسی برس کا ہو گا اس کے بچوں کے بچے بھی بیاہے گئے تھے وہی کھیت کھلیان وہی فصلیں وہی رہٹ وہی ڈھور ڈنگر اور ان کے درمیان ڈرا ڈرا سہما سا بیچارہ غلام احمد مجھے اس پر ترس آتا وہ پیدائشی غلام تھا سکھ نام کی چیز اس کی زندگی میں نہ تھی پنجابی اردو پشتو اور فارسی کی کوئی ایسی گالی نہ ہو گی جو باپ نے بیٹے پر نہ آزمائی ہو بلکہ بے شمار نت نئی کے علاوہ کئی ایک کا موجد وہ خود تھا مجھے اس کے اس رویے پر شرمندگی ہوتی میں اس سے اکثر کہتا یہ ساری گالیاں دراصل تم اپنے آپ کو دے رہے ہو آخر اس بیچارے کو اپنی زندگی کیوں نہیں جینے دیتے
باپو نے حقے کا لمبا کش لیا لمبی گالی بک کر ایک آنکھ بند کی اور بولا اگر اس کو ڈھیل دی تو اس کے پر پرزے نکل آ ئیں گے اور یہ اپنی مرضی والا ہو جائے گا.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں