اتوار، 9 ستمبر، 2018

                                  ڈھیل
     باپو احمد علی کا شمار گاؤں کے معمر اور  انتہائی دانا  لوگوں میں ہوتا ہے اس زمانے میں جلد شادی اور بچے ہو جاتے تھے باپواحما  جو میرا یار ہے اس کا بڑا  بیٹا گامو  یہی کوئی  ستر  اسی  برس کا ہو گا اس کے بچوں کے بچے بھی بیاہے  گئے تھے وہی کھیت کھلیان وہی فصلیں   وہی رہٹ  وہی ڈھور ڈنگر اور ان کے درمیان ڈرا ڈرا سہما  سا بیچارہ غلام احمد مجھے اس پر ترس آتا وہ پیدائشی غلام تھا سکھ نام کی چیز اس کی زندگی میں نہ تھی پنجابی اردو پشتو اور فارسی کی کوئی ایسی گالی نہ ہو گی جو باپ نے بیٹے پر نہ آزمائی ہو بلکہ بے شمار  نت نئی کے علاوہ  کئی ایک کا موجد وہ خود تھا مجھے اس کے اس رویے پر شرمندگی ہوتی میں اس سے اکثر کہتا یہ ساری گالیاں دراصل تم  اپنے آپ کو دے رہے ہو آخر اس بیچارے کو اپنی زندگی کیوں نہیں جینے دیتے
     باپو نے  حقے کا لمبا کش لیا  لمبی گالی بک کر  ایک آنکھ بند کی اور بولا اگر اس کو ڈھیل دی تو اس کے پر پرزے نکل آ ئیں گے اور یہ اپنی مرضی  والا ہو جائے گا.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں