جمعرات، 19 جولائی، 2018

                               بآ !   جی



    بے جی اور با! جی کی والدہ رحمت بی بی  اپنے دیہات میں بہت معزز خاتون  تھیں .جب وہ تلاوت کرتیں تو حرف بہ حرف اس کا پنجابی میں ترجمہ  کرتے بہت بھلی لگتیں  .یہیں سے میں  مذاق ہی مذاق میں اردو اخبار اور رسائل کو پنجابی میں پڑھنے لگا ،کہ سننے والا سمجھتا کہ میں پڑھ ہی پنجابی رہا ہوں . 
     ہمارے گاؤں میں جتنے رحمے  پھجے گامے اور جہانے تھے ان کے اصلی نام بے بے جی کے ذریعے ہی معلوم ہوۓ کیوں کہ ان کی عادت تھی کہ نام  خواہ برے سے برے آدمی کا ہی کیوں  نہ ہو پورا اور سنوار  کر بلاتیں.
     بے بے جی نے طویل عمر پائی آخری دنوں میں کسی بھی مرد کی آواز سنتیں تو پہچان نہ پاتیں تو قیاس سے کہتیں میرا محمد اسحٰق ہے ،میرا غلام مصطفی ہے میرا فرزند علی ہے پھر جب مستقل با ! جی اوراماں  جی کے پاس تھیں تو جب بھی کوئی پاس بیٹھتا تو کہتیں میرا فرزند علی ہے ؟ اماں جی جب بے بے جی کے پاس بیٹھیں تو حسب عادت بولیں 'میرا فرزند علی  ہے ؟' اماں  جی خوش مزاج خاتون تھیں کہنے لگیں  !
     میری بے بے نے جب مرنا ہے قبر میں منکر نکیر آئیں  گے تو ہماری بے بے کا اعتبار نہیں یہ ان کا بھی ہاتھ پکڑ کر کہے 'تو میرا فرزند علی  ہے '
     آج محمد اسحٰق .غلام مصطفیٰ کے بعد بے بے کا فرزند علی اپنی بے بے کے پاس ہے تو وہ کہہ  سکتی ہیں میرا فرزند علی  بھی آ گیا ہے 
تیری خیر ہو 
تیرا بھلا ہو 
تو خوش رہے 
اپنوں کے ساتھ 
اپنے الله کے پاس 
الله حافظ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں